خطبات محمود (جلد 15) — Page 151
۱۵۱ سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود عقل پر بھی مگر نہ ہر انسان کی محبت اس کی عقل پر غالب ہوتی ہے اور نہ ہر انسان کا غضب اس کی غالب ہوتا ہے، نہ ہر انسان کا غضب اُس کی مغضوب چیزوں سے اسے دور کر دیتا ہے اور نہ ہر انسان کی محبت اسے محبوب چیزوں سے قریب کر دیتی ہے مگر باوجود اس کے نہیں کہہ سکتے کہ فلاں انسان میں محبت نہیں یا فلاں میں غضب نہیں، ہر انسان میں محبت بھی ہوتی ہے اور غضب بھی مگر انتہائی صورتوں میں ہر جگہ نظر نہیں آتا۔۔اسی طرح سخاوت اور بخل کا حال ہے۔یہ مادہ بھی ہر انسان میں موجود ہوتا ہے مگر کسی کی سخاوت کا وسیع دائرہ ہوتا ہے اور کسی کے بخل کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔پھر کسی کی سخاوت محدود دائرہ کے اندر ہوتی ہے اور کسی کا بخل محدود دائرہ کے اندر ہوتا ہے۔کئی سخی ایسے ملیں گے جو زیادہ سے زیادہ چیزوں کو قربان کرنے کیلئے تیار رہیں گے اور کئی بخیل ایسے ملیں گے جو زیادہ سے زیادہ چیزوں کو سمیٹنے کیلئے تیار رہیں گے۔پھر کئی سنی ایسے ہوں گے جو اپنی عزت اپنی وجاہت اپنے آرام اور اپنے جذبات کی قربانی کرنے کیلئے تو تیار نہیں ہوں گے مگر جو مال آئے گا اسے لٹا دیں گے۔اور کئی بخیل ایسے نظر آئیں گے جو اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہوں گے، رشتہ داروں کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوں گے ، لیکن اگر ایک پیسہ بھی ان سے طلب کیا جائے تو وہ دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔گویا وہ بخیل تو ہوتا ہے مگر اس کا نجل ایک محدود دائرہ میں ہوتا ہے۔پھر اپنے اپنے دائرہ میں مجبل اور سخاوت کے مختلف درجے اور مراتب ہوتے ہیں۔کئی سخی ہوتے ہیں اور وہ اپنا سب مال بے دریغ خرچ کر دیتے ہیں اور کئی سخی ہونے کے باوجود تیسرے چوتھے یا پانچویں حصہ تک مال خرچ کرتے ہیں۔پھر کئی بخیل ہوں گے جو ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے خواہ کس قدر انہیں ضرورت محسوس ہو اور کئی ایسے بخیل ہوں گے جو یوں تو خرچ نہیں کریں گے اور اگر کسی فقیر کو بھوکا مرتے بھی دیکھیں تو انہیں رحم نہیں آئے گا لیکن اگر مثلاً وائسرائے کی طرف سے کسی چندہ کی تحریک ہو تو وہ جھٹ اس میں روپیہ بھیج دیں گے۔یہ بھی بخیل ہوتے ہیں مگر محدود دائرہ میں لیکن ایک اور بخیل ہوتا ہے جو کسی کو نگا دیکھتا ہے تو پرواہ نہیں کرتا لیکن اگر کسی کو بھوکا دیکھے تو بے چین ہو جاتا ہے۔یہ سب مدارج ہیں جن کے ماتحت نخل یا سخاوت ہوتی ہے۔اس طرح تقویٰ کے بھی مختلف مدارج ہیں مگر عام طور پر لوگ ان کا خیال نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں تقویٰ ایک ہی مقام کا نام ہے۔جہاں قدم رکھا تو متقی ہو گئے۔نہ اس سے اوپر کوئی