خطبات محمود (جلد 15) — Page 85
خطبات محمود AA سال ۱۹۳۴ء جلسہ کرنے کی اجازت دے دیں گے۔میں نے کہا ضرور اس میں حرج کی کونسی بات ہے۔آخر میں نے اپنی مسجد میں ان کی تقریر کیلئے انتظام کر دیا۔اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے ان کا ایک مباحثہ ہو گیا۔اس کے بعد آریوں کا کوئی قابل ذکر جلسہ نہیں ہوا۔اسی طرح ایک دفعہ مجھے کسی نے سنایا کہ گاندھی جی نے کہا ہے کہ احمدی جماعت منتظم بہت ہے مجھے اگر اس جماعت کے امام سے ملنے کا اتفاق ہو تو میں انہیں سمجھاؤں اور کانگرسی اصول کا قائل کروں۔جب ایک ہندو صاحب نے اس بارہ میں مجھ سے ذکر کیا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ اگر پھر گاندھی جی سے ملیں تو میری طرف سے کہہ دیں کہ آپ ضرور تشریف لائیں میں آپ کا شاندار استقبال کروں گا' آپ کی تقریر کیلئے انتظام کروں گا خود بھی بیٹھوں گا اور لوگوں کو بھی اس میں بٹھاؤں گا پھر آپ بھی تقریر کریں اور میں بھی۔پس نہ ہمارے لئے ڈر کی کوئی بات ہے اور نہ گورنمنٹ کیلئے۔گورنمنٹ نے جو قانون بنائے ہوئے ہیں اس کا فرض ہے کہ وہ ان دنوں کا ساتھ دے جوان قوانین کو نافذ کرنے والے ہوں نہ کہ مخالفوں کا۔ورنہ دو ہی صورتیں ہیں۔یا تو قانون کو بدل دیا جائے یا شورش پسندوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے جائیں لیکن یہ درست نہیں کہ قانون کو بدلے بغیر قانون کی حد میں رہ کر کام کرنے والی کمیٹی کے فعل کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کیا جائے اور قانون شکن لوگوں کی عملاً پیٹھ ٹھونکی جائے۔میونسپل کمیٹیوں کا قانون ہے کہ نقشہ کی منظوری کے بغیر کوئی عمارت بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پس اگر قادیان کی کمیٹی نے اس پر اصرار کیا کہ پہلے اس کے سامنے نقشہ پیش کیا جائے تو اس نے بالکل درست کیا اور حکومت کا اگر وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے، یہ فرض ہے کہ وہ سمال ٹاؤن کمیٹی کی امداد کرے اور شورش کرنے والوں کو سیدھا کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو وہ ملک میں قانون شکنی کی روح پیدا کرنے کی خود ذمہ دار ہے اور اس طریق سے وہ اپنے کام کو ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح وہ جماعت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کے افراد ڈیڑھ مرلہ کی مسجد بننے پر گھبرانے لگ جائیں۔وہ ڈیڑھ مرلہ کی کیا دس ہزار مرلہ کی مسجد بنالیں ہمیں کوئی فکر نہیں۔جتنی بڑی مسجد وہ بنائیں گے اتنا ہی ہمارا فائدہ ہے کیونکہ آخر ایک دن اس مسجد نے ہمارے قبضہ میں ہی آتا ہے۔ہاں جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے دشمن کا حملہ حقیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس کا علاج کرنا چاہیے جو ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہم انہیں دعوتِ خیر دیں۔