خطبات محمود (جلد 15) — Page 56
خطبات محمود ۵۶ سال ۱۹۳۴ء تک کہ کچھ بھی فاصلہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ سو ہاتھ آخر محدود تعداد ہے۔لیکن اللہ تعالی کی صفات غیر محدود ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی جبروت کے مقابلہ میں انسان کسی وقت بھی استغفار سے بے اعتنائی نہیں کر سکتا۔اسی مسجد کا ذکر ہے۔میں جمعہ کی نماز کے بعد بیٹھا ہی تھا کہ ایک مسافر آگے بڑھا اور اس نے کہا میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو تو پوچھوں۔میں نے کہا۔پوچھیں۔کہنے لگا کشتی میں انسان کس لئے سوار ہوتا ہے؟ جو نمی اُس نے یہ سوال کیا معاً میرے ذہن میں یہ بات آگئی کہ یہ شخص ان نام نہاد صوفیوں کی غلط اصطلاحات کے چکر میں پھنسا ہوا ہے جنہوں نے یہ ڈھکوسلا بنا رکھا ہے کہ ایک شریعت ہوتی ہے اور ایک طریقت - جب تک انسان دائرہ شریعت میں رہتا ہے اُس وقت تک تو اُسے عبادت کی ضرورت رہتی ہے مگر جب وہ طریقت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، اسے کسی عبادت کی ضرورت نہیں ہے رہتی۔میں نے سمجھ لیا کہ اگر میں اسے یہ کہوں گا کہ کشتی میں بیٹھنے سے انسان کی غرض ہوتی ہے کہ وہ کنارے تک پہنچ جائے۔تو یہ شخص فوراً کہہ دے گا کہ نماز روزہ اسی لئے ہیں کہ انسان خدا تک پہنچ سکے جب خدا مل گیا تو پھر نماز روزے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا منزل مقصود پر پہنچ کر بھی کوئی شخص کشتی میں بیٹھا رہتا ہے یا دوست کے گھر پہنچ کر بھی سواری کو نہیں چھوڑتا۔پس اُس کے سوال کرتے ہی یہ تمام باتیں مجھ پر کھل گئیں اور میں نے اُسے صرف یہ جواب دینے کی بجائے کہ کشتی میں انسان اس لئے سوار ہوتا ہے کہ وہ کنارے پر پہنچے ، یہ جواب دیا کہ کشتی میں سوار ہونے کی اصل غرض کنارے پر پہنچنا ہے پس اگر دریا سے پار ہوتا ہے تو جب کنارہ آئے اتر جائے لیکن اگر وہ بے کنار سمندر ہے تو پھر جہاں اُترا ڈوبا۔پس اللہ تعالٰی ہمارا ایک ایسا مقصود ہے جس کا قرب کبھی ختم نہیں ہو سکتا اسی لئے اس کی ذات کو مد نظر رکھتے ہوئے استغفار کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور اس لحاظ سے ہر روحانی انسان ایک طرح کامل ہے اور ایک طرح ناقص۔جب ہم یہ دیکھیں گے کہ کسی انسان نے اپنی پوری قوتوں سے اللہ تعالیٰ کا قرب جتنا وہ حاصل کر سکتا تھا، حاصل کرلیا۔اور پورے زور سے اپنے دائرہ کے اندر جس مقام پر وہ پہنچ سکتا تھا، پہنچ گیا تو ہم کہیں گے کہ وہ کامل ہے گو کے لحاظ سے فرق ہو جائے گا۔اور گو اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت سے یہ شخص بھی استغفار سے غافل نہیں ہو سکتا۔اب تک اللہ تعالٰی کے جس قدر بھی انبیاء آئے' ان میں سے کسی کو بھی ناقص نہیں کہتے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ موسیٰ علیہ السلام ناقص تھے۔وہ بھی کامل مدارج