خطبات محمود (جلد 15) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۴ء کرے۔اور یہ بوجھ ایسا نہیں کہ کوئی کہہ سکے میں نہیں اٹھا سکتا اس لئے سب کو اس میں شامل ہونا چاہیے سوائے بیماروں کے۔بعض لوگ بیماروں کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کی ضرورت نہیں۔ایک مسلول کیلئے ضروری ہے کہ دودھ، مکھن ، بالائی، انڈے غرض کہ تمام ہلکی اور لطیف اغذیہ کا استعمال کرے کیونکہ اس کیلئے یہی علاج ہے اور اس کیلئے یہی حکم ہے۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو اپنی صحت کو برباد کردے گا اور اس طرح مجرم ہو گا۔دیکھو رمضان میں روزہ نہ رکھنا گناہ ہے۔مگر عید کے دن روزہ رکھنا گناہ ہے، نماز فرض ہے مگر دن کے طلوع اور غروب کے وقت پڑھنے والا رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ شیطان ہے اس لئے جو لوگ بیمار ہوں ان کیلئے یہی حکم ہے کہ جو چیز ان کی صحت کیلئے ضروری ہو اسے استعمال کریں۔پس رمضان سے جو سبق ملتا ہے وہ حاصل کرنا چاہیے۔اس سے ہم اپنے اندر عظیم الشان تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں مگر لوگ عام طور پر اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔نہ وہ کھانے میں کمی کرتے ہیں، نہ پینے میں، نہ نیند میں، نہ باتیں کرنے میں۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ رمضان کو ایسے لوگ خویندے کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور آگے سے بھی موٹے ہو جاتے ہیں اس طرح کوئی روحانی فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کسی کے ہاتھ پر غلاظت لگی ہو اور وہ اسے صابن سے صاف کرنے کی بجائے اس سے کپڑے کی گرد جھاڑنے کی کوشش کرے۔پس جو لوگ رمضان میں نفس کو موٹا کرتے ہیں ان کو نقصان ہوتا ہے۔جب آقا سامنے ہو تو غلام کو اس کا ڈر ہوتا ہے اور رمضان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب آجاتا ہوں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہماری جماعت کے دوستوں کو توفیق دے کہ وہ رمضان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔اور لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں رمضان کی جو غرض بنائی گئی ہے، اسے حاصل کر سکیں۔اللہ تعالی انہیں تقویٰ کا وہ مقام عطا کرے کہ اس کی گود میں جا پہنچیں جس کے بعد ان کیلئے کسی قسم کا ڈر نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ان کے تمام کاموں کا متکفل ہو جائے اور وہ اس کی حفاظت میں آجائیں۔له البقرة: ۱۸۴ ۳۲ بخاری باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله ال البقرة: ۱۸۵ الفضل ۲۷- دسمبر ۱۹۳۴ء)