خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 514

خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۴ء ہے کہ غذا کو سادہ کردیں گے اور صرف ایک سالن پر گزارہ کریں گے۔اس میں شک نہیں کہ اس پر عمل میں نے ہر ایک کی مرضی پر چھوڑا ہے اور یہ تحریک اختیاری ہے مگر میں سمجھتا ہوں یہ اختیار صرف نیکی کو زیادہ کرنے کیلئے ہے ورنہ جو احمدی اسے اختیار نہیں کرتا وہ نیکی سے محروم رہتا ہے اس لئے دوستوں کو رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر اس اقرار کے متعلق احتیاط برتنی چاہیئے۔افطار میں تنوع اور سحری میں تکلفات نہیں کرنے چاہئیں اور یہ نہیں خیال کرنا چاہیئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پرخوری کرلیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام افطار وغیرہ کیلئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے کوئی کھجور سے کوئی نمک سے، بعض پانی سے سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیے تھے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اسی طریق کو پھر سے جاری کریں۔جبکہ دین کیلئے خدا تعالیٰ وہ زمانہ پھر لایا ہے اور اس کیلئے طرح طرح کے مصائب ہیں (بیشک ذاتی طور پر ہمارے لئے کوئی مصیبت نہیں لیکن جب دین کیلئے مصیبت ہے تو وہ ہمارے لئے ہے) اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم وہی دن یاد کریں جب قرآن نازل ہوا تھا۔تو ہمارے لئے بھی وہی طریق اختیار کرنا ضروری ہے جو ان دنوں میں تھا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ - یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ گنتی پوری کرو۔مفسرین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں اور میں خود بھی کبھی کبھی یہ معنی کیا کرتا ہوں اور وہ بھی صحیح ہیں کہ اللہ تعالی نے رمضان اس لئے مقرر کر دیا کہ تا دن پورے ہو جائیں۔اگر یونہی حکم دے دیتا کہ روزے رکھو تو کوئی دس رکھ لیتا، کوئی ہیں، کوئی کم کوئی زیادہ اس لئے اللہ تعالی نے ایک مہینہ مقرر کر دیا کہ تا پوری ہو جائے۔ظاہر میں اس کے یہ معنی بھی ہیں مگر یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ اصل زندگی انسان کی وہی ہے جو نیکی میں گزرے جو دنیا کیلئے عمر کا حصہ گزرے وہ باطل ہے اور اس لحاظ سے اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے روزے اس لئے رکھے ہیں کہ تا تم اپنی عمر پوری کرلو۔جو لوگ دنیا میں ہی مصروف رہتے ہیں وہ گویا زندہ ہوتے ہی نہیں۔وہ اس دنیا میں ہی مرگئے اور مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْمٰی نے جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا اسی طرح روحانیت سے اور لوگوں کو قرآن کریم میں مردہ قرار دیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے روزے مقرر کئے ہیں تا تم دنیا میں اپنی مقررہ عمر بسر کرلو۔چونکہ بنی نوع انسان کیلئے کھانا پینا لازمی ہے، اس لئے سارا سال تو روزے