خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 480

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۸۰م بھی ساتھ ہی سوچا تھا تا دوسرے ذرائع سے ان کو فائدہ پہنچ سکے۔باہر جو احمدی دُکاندار ہیں ان کی دُکانیں احمدیوں کی بکری پر نہیں چلتیں بلکہ ان کے گاہک غیر لوگ بھی ہوتے ہیں۔بلکہ اگر ایک گاہک احمدی ہو تو دس بارہ دوسرے ہوتے ہیں اس لئے یہ تحریک باہر کے احمدیوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتی جتنا قادیان کے دُکانداروں کو۔پھر باہر کے دُکانداروں کو احمدی گاہکوں کی کفایت سے جتنا نقصان پہنچے گا اس سے زیادہ وہ خود کفایت کر کے فائدہ اٹھا سکیں گے مگر قادیان کے احمدی دُکانداروں کی بکری نوے فیصد احمدیوں سے ہوتی ہے اس لئے وہ ضرور توجہ کے مستحق ہیں اور اس لئے انہیں نقصان سے بچانے کیلئے میں نے دو تجاویز کی ہیں۔ایک تجویز ہے کہ یہاں ایک خاصہ طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو سودا سلف باہر سے خریدتا ہے۔بعض لوگ تو کھانے پینے کی چیزیں بھی بٹالہ امرتسر سے خریدتے ہیں اور بعض کپڑا وغیرہ اور دیگر استعمال کی چیزیں بٹالہ امرتسر یا لاہور سے خرید لیتے ہیں۔بعض دفعہ اس لئے کہ یہاں مناسب چیزیں نہیں ملتیں اور بعض دفعہ اس لئے کہ باہر سے سستی چیزیں مل جاتی ہیں یا مقابلتاً اچھی مل جاتی ہیں۔میں نے خود دیکھا ہے کہ جب لاہور وغیرہ شہروں میں جاتا ہوں تو خود بھی اور گھر کے لوگ بھی وہاں سے ضرورت کی چیزیں خرید لاتے ہیں۔اگرچہ میں کھانے پینے کی چیزیں باہر نہیں منگواتا مگر مجھے معلوم ہے کہ یہاں کے لوگوں کی ایک کافی تعداد ہے جو کھانے پینے کی اشیاء بھی بٹالہ وغیرہ سے خریدتے ہیں اس لئے میں حکم تو نہیں دیتا مگر تحریک کرتا ہوں کہ جماعت کے ایسے دوست جنہیں اللہ تعالیٰ نے ملکی مفاد کے سمجھنے کی توفیق دی ہو، وہ سب چیزیں یہاں سے ہی خریدا کریں اگر اس سے انہیں کوئی نقصان ہوگا تو یہ نقصان بھی فائدہ کا ہی موجب ہوگا اس لئے جہاں تک ہو سکے یہاں کے دُکانداروں سے ہی چیزیں خریدا کریں۔اس سلسلہ میں میں یہاں کے دُکانداروں سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے چیزوں کی قیمت کم رکھا کریں اور تھوڑی بکری پر زیادہ منافع کا اصول نہ رکھیں۔دونوں طرح سے ان کے گھر میں اتنا ہی آجائے گا۔پس وہ نفع کم لگائیں۔وہ دوسری تجویز اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جو دوست باہر سے یہاں آتے ہیں ، وہ بھی ایسی چیزیں جو یہاں سے خرید کر لے جاسکیں جیسے کپڑے وغیرہ یہاں سے تیار کرالیا کریں۔میری اس اقتصادی تعلیم سے انہیں جو رقم بچے گی قادیان سے اشیاء خریدنے میں، اگر اس میں سے کچھ خرچ ہو جائے تو بھی وہ نفع میں رہیں گے۔میں نے اپنی ذات میں تو اس پر عمل بھی حص۔