خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 467

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہیں وہ سروے کریں اور جہاں جہاں گندہ پانی جمع رہتا ہے اور جو اردگرد بسنے والے دس ہیں کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے، اسے نکالنے کی کوشش کریں اور ایک ایک دن مقرر کر کے سب مل کر محلوں کو درست کرلیں۔اسی طرح جب کوئی سلسلہ کا کام ہو۔مثلاً لنگر خانہ یا مہمان خانہ کی کوئی اصلاح مطلوب ہو تو بجائے مزدور لگانے کے خود لگیں اور اپنے ہاتھ سے کام کر کے ثواب حاصل کریں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تو حروف پر انگلی بھی پھیرتے جاتے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے قرآن کے حروف آنکھ سے دیکھتا ہوں اور زبان سے پڑھتا ہوں اور انگلی کو بھی ثواب میں شریک کرنے کیلئے پھیرتا جاتا ہوں۔پس جتنے عضو بھی ثواب کے کام میں شریک ہو سکیں اتنا ہی اچھا ہے اور اس کے علاوہ مشقت کی عادت ہوگی۔اب اگر کسی کو ہاتھ سے کام کرنے کیلئے کہو اور وہ کام کرنا شروع بھی کردے تو کھسیانہ ہو کر مسکراتا جائے گا لیکن اگر سب کو اسی طرح کام کرنے کی عادت ہو تو پھر کوئی عار نہ سمجھے گا۔یہ تحریک میں قادیان سے پہلے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گاؤں کی احمدیہ جماعتوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی مساجد کی صفائی اور لپائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا وہ عار نہیں سمجھتے۔شغل کے طور پر لوہار، نجار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔رسول کریم ﷺ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ خندق کھودتے ہوئے آپ نے پتھر توڑے اور مٹی ڈھوئی۔صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ اُس وقت رسول کریم کو جو پسینہ آیا بعض نے برکت کیلئے اسے پونچھ لیا ہے۔یہ تربیت ثواب اور رُعب کے لحاظ سے بھی بہت مفید چیز ہے۔جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے، ان پر خاص اثر ہو گا۔بدر کے موقع پر جب کفار نے ایک شخص کو مسلمانوں کی جمعیت دیکھنے کیلئے بھیجا تو اس نے آکر کہا آدمی تو تھوڑے ہی ہیں لیکن موت نظر آتے ہیں ہے۔وہ یا خود مر جائیں گے یا ہمیں مار ڈالیں گے۔اسی وجہ سے انہوں نے لڑائی سے باز رہنے کی کوشش کی جس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی مخالفین جب یہ دیکھیں گے کہ یہ ہر کام کرنے کیلئے تیار ہیں اور کسی کام کے کرنے میں عار نہیں سمجھتے تو سمجھیں گے کہ ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔سترھواں مطالبہ یہ ہے کہ جو لوگ بیکار ہیں وہ بیکار نہ رہیں۔اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کرلیں۔اخباریں اور کتابیں ہی