خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 466

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول میں بعض بعض خوبیاں نہایت نمایاں تھیں۔حضرت خلیفہ اول اسی مسجد میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے مجھے یاد ہے میں چھوٹا سا تھا سات آٹھ سال کی عمر ہوگی ہم باہر کھیل رہے تھے کہ کوئی ہمارے گھر سے نکل کر کسی کو آواز دے رہا تھا کہ فلانے مینہہ آگیا ہے او پلے بھیگ جائیں گے جلدی آؤ اور ان کو اندر ڈالو۔حضرت خلیفہ اول درس دے کر اُدھر سے جارہے تھے انہوں نے اُس آدمی سے کہا کیا شور مچارہے ہو؟ اس نے کہا کہ کوئی آدمی نہیں ملتا جو اوپہلے اندر ڈالے آپ نے فرمایا تم مجھے آدمی نہیں سمجھتے۔یہ کہہ کر آپ نے ٹوکری لے لی اور اُس میں اوپلے ڈال کر اندر لے گئے۔آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شامل ہو گئے اور جھٹ پٹ اوپلے اندر ڈال دیئے گئے۔اسی طرح اس مسجد کا ایک حصہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بنوایا تھا۔ایک کام میں نے بھی اسی قسم کا کیا تھا مگر اس پر بہت عرصہ گذر گیا ہے۔میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کیلئے کئی بار کہا ہے مگر توجہ نہیں کرتے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور یہ احساس مٹادیں کہ فلاں آتا ہے اور فلاں مزدور - اگر ہم اس لئے آقا بنتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے تو یہ بھی ظاہر کرنا چاہیے کہ ہمارا حق نہیں کہ ہم آقا بنیں اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے آقا بننے کا حق ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔کئی لوگ ترقی کرنے سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ اگر ہم نے فلاں کام کیا اور نہ کر سکے تو لوگ کیا کہیں گے۔بعض مبلغ خود چوہدری بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دوسروں کو مباحثہ میں آگے کر دیتے ہیں تاکہ وہ ہار نہ جائیں۔مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ نے کہا ہمارے پاس اب صرف دو مبلغ مناظرے کرنے والے ہیں مگر اس کی ذمہ داری ناظر صاحب پر ہی عائد ہوتی ہے۔انہیں دو مبلغ ہوشیار نظر آئے انہی کو انہوں نے مناظروں کیلئے رکھ لیا حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ سب سے یہ کام لیتے اور اس طرح زیادہ مبلغ مباحثات کرنے والے پیدا ہو جاتے کیونکہ کام کرنے سے کام کی قابلیت پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگ دراصل کام کرنے سے جی چراتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کام کے کرنے میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کر رہا ہوں اس کیلئے پہلے قادیان والوں کو لیتا ہوں۔یہاں کے احمدی محلوں میں جو اونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں، گلیاں صاف نہیں، نالیاں گندی رہتی ہیں بلکہ بعض جگہ نالیاں موجود ہی نہیں، ان کا انتظام کریں۔وہ جو اوور میئر