خطبات محمود (جلد 15) — Page 455
خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۴۳ نو کہتا مبلغ اگر پنجاب میں لگادئیے جائیں جو دن رات تبلیغ کے سوا اور کوئی کام نہ کریں تو غور کرو کتنا عظیم الشان کام ہو سکتا ہے۔اصل سوال قربانی کے جذبہ اور ارادہ کا ہوتا ہے۔اور سوائے روپیہ کے جس کام کا ارادہ کریں گے کہ یہ ہونا چاہیئے وہ ہونے لگ جائے گا۔جس طرح خدا تعالی ہے تو ہو جاتا ہے، اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندوں کو بھی یہ خاصیت دی جاتی ہے اور ان کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ہم جو کُن کہنے والے کی جماعت ہیں ہمارے لئے بھی یہی کہ جس کام کو ہم کہیں ہو جا وہ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے کئی مخلص بندوں کو یہ رتبہ دیا ہے کہ وہ جب کسی کام کے متعلق کہتے ہیں ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔کئی دفعہ میرے پاس خط آتے ہیں کہ فلاں مقصد میں کامیابی کیلئے دعا کریں۔میں جواب میں لکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کرے مگر لکھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کرے گا۔پھر خبر آتی ہے کہ مقصد پورا ہو گیا۔کئی دفعہ کرے گا" کے لفظ کو کاٹنے کو دل کرتا ہے لیکن تجربہ نے مجھے بتادیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے اب میں بہت کم ایسا کرتا ہوں۔غرض اپنے متعلق إِلَّا مَا شَاءَ اللہ خدا تعالی کا یہی تصرف دیکھا ہے کہ اُسی طرح ہو جاتا ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ اس لئے کہتا ہوں کہ لفظی الہام بھی کئی دفعہ مل جاتا ہے تو قلبی الہام بھی بدلے ہوئے حالات میں بدل سکتا ہے۔پس اللہ تعالی کے مومن بندوں کو بھی یہ طاقت دی جاتی ہے کہ وہ جس بات کو کہیں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت ارادہ کرے کہ تبلیغ کرنی ہے، پھر تبلیغ ہونے لگے گی۔ہم فیصلہ کرلیں کہ ہم مبلغ بن کر گے تو خدا تعالیٰ مبلغ بننے کی توفیق دے دے گا۔ہم پختہ ارادہ کرلیں کہ لوگوں کو رہیں سلسلہ احمدیہ میں داخل کریں گے تو وہ داخل ہونے لگ جائیں گے۔دیکھو آک کا بڑا آک کے پتوں میں رہ کر ایسا ہی رنگ اختیار کرلیتا ہے اور تیتری جن پھولوں میں اُڑتی پھرتی ہے، ان کا رنگ حاصل کرلیتی ہے۔کیا ہم بڑوں اور تیتریوں سے بھی گئے گزرے ہیں اور ہمارا خدا ( نَعُوذُ بالله) آک اور پھولوں سے بھی گیا گذرا ہے کہ بڑا آک کے پتوں میں رہتا ہے تو ان کا رنگ قبول کرلیتا ہے تیتریاں جن پھولوں میں رہتی ہیں وہ ان کا رنگ اخذ کرلیتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بندے اس کے پاس جائیں اور وہ اس کا رنگ نہ قبول کریں۔دراصل وہ اپنے دل کی بدظنی ہی ہوتی ہے جو انسان کو ناکام و نامراد رکھتی ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے۔اَنَا عِنْدَ ظَنْ عَبْدِی ہی ہے۔جیسا بندہ ہمارے متعلق گمان کرتا