خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 427

خطبات محمود ۴۲۷ سال ۶۱۹۳۴ وقت کے کھانے کے ساتھ استعمال کر لیا جائے۔یہ قربانی ایسی نہیں کہ اس سے کسی کی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ذلت ہوتی ہو یا کسی کی صحت کو نقصان پہنچے لیکن اس قاعدہ پر عمل کر کے آسودہ حال لوگوں کے گھروں میں اچھی خاصی بچت ہو سکتی ہے۔ہاں ایک اجازت میں دیتا ہوں بعض لوگ عادی ہوتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا ضرور کھائیں بلکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اگر میٹھا نہ کھائیں تو نفخ ہو جاتا ہے۔ہمارے گھر میں تو یہ عادت نہیں مگر میں نے بعض لوگوں کو شکایت کرتے سنا ہے۔ایسے لوگوں کیلئے اجازت ہے کہ ایک سالن کے ساتھ ایک میٹھا بھی تیار کرلیں۔مگر ایسے لوگ شاذ ہوتے ہیں شاید ہزار میں ایک انگریزوں میں تو اس کا رواج ہی ہے مگر ہندوستان میں عام طور پر نہیں۔اسی طرح جو لوگ کبھی کبھار کھانے کے ساتھ کوئی میٹھی چیز تیار کرلیں، ان کیلئے بھی جائز ہو گا۔مگر میٹھی شئے بھی ایک ہی ہو نیز اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔یعنی یہ میٹھے کی خلافِ عادت بھرمار نہ کی جائے۔مہمان بھی اگر جماعت کا ہو تو اسے بھی چاہیے کہ میزبان کو مجبور نہ کرے کہ ایک سے زیادہ سالن اس کے ساتھ مل کر کھائے۔ہر احمدی اس بات کا پابند نہیں بلکہ اس کی پابندی صرف ان لوگوں کیلئے ہوگی جو اپنے نام مجھے بتادیں اور ان سے میں امید رکھوں گا کہ اس کی پابندی کریں۔(بعض لوگوں نے ناشتہ کے متعلق بعد از خطبہ سوال کیا ہے۔سو اس کا جواب بھی اس جگہ درج کر دیتا ہوں۔چونکہ چائے پینے کی شئے ہے اسے کھانے میں شمار نہ کیا جائے گا۔ہاں اس کے ساتھ جو چیز کھائی جائے اس کیلئے ضروری ہوگا کہ ایک ہی ہو۔یعنی روٹی اور کوئی سالن یا بھیجیا وغیرہ) لباس کے متعلق میرے ذہن میں کوئی خاص بات نہیں آئی۔ہاں بعض عام ہدایات میں دیتا ہوں۔مثلاً یہ کہ جن لوگوں کے پاس کافی کپڑے ہوں وہ ان کے خراب ہو جانے تک اور کپڑے نہ بنوائیں۔پھر جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنواتے ہیں، وہ نصف پر یا ر گزاره تین چوتھائی پر یا ۴/۵ پر آجائیں۔مثلاً اگر دس جوڑے بنواتے ہیں تو آٹھ یا چھ یا پانچ پر کرلیں۔جو عورتیں اس میں شامل ہوں وہ اپنے اوپر ایسی ہی پابندی کرلیں۔مردوں اور عورتوں کو اس کے متعلق تفصیلات سے مجھے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہاں سب سے ضروری بات عورتوں کیلئے یہ ہوگی کہ محض پسند پر کپڑا نہ خریدیں گی۔یہاں عورتوں کی دُکانیں مردوں سے زیادہ چلتی ہیں کیونکہ عورتیں صرف پسند آنے پر ضرورت کے بغیر بھی کپڑا خرید لیتی ہیں۔پس عورتیں یہ بھی معاہدہ کریں کہ صرف پسند ہونے کی وجہ سے وہ کوئی کپڑا نہ خریدیں گی بلکہ