خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 422

خطبات محمود ۴۲۲ سال ۱۹۳۴ء زیادہ کھانے جن کے گھروں میں پکتے ہیں۔ورنہ غرباء کی قربانی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہو چکی ہے۔وہ کبھی روکھی سوکھی روٹی کھا لیتے ہیں، کبھی شکر یا گڑ سے ، کبھی پیاز سے اور کبھی چٹنی سے اس لئے میرے مخاطب وہ نہیں بلکہ وہ ہیں جن کے گھروں میں اچھے اچھے کھانے پکتے ہیں اور جو کثرت سے کھاتے ہیں یا جن کے کھانوں میں تنوع پایا جاتا ہے۔ایسے لوگ مالی یا جانی کسی قسم کی قربانی نہیں کر سکتے جب تک اپنے حالات میں تبدیلی نہ کریں۔انہیں اگر سفر پر جانا پڑے تو شکایت کرتے ہیں کہ کھانا اچھا نہیں ملتا، دودھ نہیں ملتا، مکھن اور ٹوسٹ نہیں ملتے کیونکہ وہ اچھے اچھے کھانے کھانے کے عادی ہوتے ہیں اور تکلیف نہیں اٹھا سکتے۔اسی طرح لباس میں بھی زمیندار میرے مخاطب نہیں ان کا لباس پہلے ہی سادہ اور ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔بلکہ بعض اوقات ضرورت سے کم ہوتا ہے۔وہ صرف لنگوٹی باندھ لیتے ہیں یا اونچا تہہ بند جس سے بدن کا کچھ حصہ نگا رہتا ہے۔اور اس میں اگر کسی اصلاح کی ضرورت ہے تو یہ کہ اسے بڑھایا جائے۔شہری لباس میں لوگ بہت غلطیاں کرتے ہیں اور غلطی نہ ہو تو بھی ضرورت سے زیادہ لباس پر خرچ کرتے ہیں۔لباس کی غرض یہ ہے کہ عریانی نہ ہو اور زینت ہو لیکن عام طور پر لباس کے بعض حصے زینت سے نکل کر فخر اور فیشن کی طرف چلے گئے ہیں۔مد نظر فیشن ہوتا ہے گرمی سردی سے حفاظت یا محض زینت مد نظر نہیں ہوتی۔بہت سے لوگ ان اغراض کیلئے نہیں بلکہ دکھانے کیلئے کپڑے بناتے ہیں۔ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی کو یہ دکھائیں کہ تمہارے جیسا کوٹ ہم نے بھی بنالیا ہے۔زیور کلیه زیبائش کیلئے ہے اس میں بھی اصلاح ہو سکتی ہے۔شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر بھی اخراجات میں ایسی اصلاح ہو سکتی ہے کہ نئے ماحول کے ماتحت اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔تعلیم کے متعلق میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو سکتا ہے۔یہ ایک ایسا سودا۔ہے کہ جس سے بہر حال قوم کو فائدہ پہنچتا ہے۔مدرسوں کی فیسیں کالجوں اور بورڈنگوں کی فیسیں اور اوزاروں یا آلات کی قیمت بہر حال خرچ کرنی پڑتی ہے اور اس میں کوئی نقصان نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زمین خرید لے۔ہاں طالب علموں کے کھانوں اور لباسوں میں اخراجات و کم کیا جاسکتا ہے۔ان باتوں کے بیان کرنے میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر میں خالی نصیحت کروں تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ بہت اچھا۔مگر عمل بہت کم لوگ کر سکیں گے اور اگر ضروری قرار دے دوں تو اس کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ ایسی باتوں کو مستقل طور پر تمدن میں