خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 419

خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۳۴ء میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ایک زخمی صحابی کا قول کتنا پیارا اور دردناک ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ قربانی کے کیا معنی ہیں۔جب رسول کریم ﷺ محفوظ ہو گئے اور کفار بھاگ گئے تو مسلمانوں نے لاشوں کا معائنہ کیا کہ دیکھیں کون کون شہید ہوا ہے ایک انصاری اپنے کسی رشتہ دار کی تلاش میں تھے کہ انہوں نے دیکھا۔ایک صحابی سے زخمی پڑے ہیں اور ان کی ٹانگیں کئی ہوئی ہیں وہ اس کے پاس پہنچے اور کہا بھائی تمہاری حالت خطرناک ہے۔اپنے متعلقین کو کوئی پیغام دینا ہو تو دے دو۔انہوں نے کہا ہاں میں منتظر ہی تھا کہ کوئی اس طرف آئے تو میں اسے پیغام دوں میرا رشتہ داروں کو یہ پیغام ہے کہ اے عزیزو! ہم نے جب تک زندہ تھے رسول کریم ﷺ کی جو ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک امانت ہیں، اپنی جانوں سے حفاظت کی۔اب ہم جاتے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد ہے تمہارا فرض ہے کہ اپنے مال و جان سے اس کی حفاظت کرو ہے۔اس کے سوا نہ کسی کو سلام دیا نہ کوئی پیغام بلکہ یہی کہا کہ میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ جس رستہ سے میں آیا ہوں اسی سے تم بھی آؤ۔تو یہ قربانیاں ہیں جو صحابہ کرام نے کیں۔مگر ان کے باوجود رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اے دوستو! ان قربانیوں کو کچھ نہ سمجھو تم سے پہلے کچھ لوگ گزرے ہیں جن کو آروں سے چیرا گیا اور جن کو آگ میں جلایا گیا محض اس وجہ سے کہ وہ خدا پر کیوں ایمان لائے 12 تمہاری قربانیاں ان کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔اصل بات یہ ہے کہ قربانی کرنا مشکل نہیں ایمان لانا مشکل ہے۔جس کے دل میں ایمان پیدا ہو جائے اس کیلئے کوئی بھی قربانی مشکل نہیں ہوتی۔اور میں امید کرتا ہوں کہ جن مردوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ عورتوں کی اور جن عورتوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ مردوں کی اور جن بچوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ اپنے ماں باپ کی مدد کریں گے اور آئندہ قربانیوں کے بارہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔قربانیوں کیلئے نیا ماحول پیدا کرنے کیلئے میں جو باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں ان میں سے میں پہلے علاج کو لیتا ہوں۔شریعت کا حکم ہے کہ بیمار کا علاج کرانا چاہیئے۔اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ علاج کرانا بند کر دیا جائے۔مگر اس سلسلہ میں ڈاکٹروں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔آج کل ڈاکٹروں میں عام مرض ہے کہ وہ کبھی خیال نہیں کرتے کہ جو دوائی وہ لکھ رہے ہیں، اس کی قیمت اور اس کے فائدہ میں نسبت کیا ہے۔ایک اشتہار ان کے پاس آتا ہے کہ فلاں دوائی کلیجی کے خون سے تیار کی گئی ہے اور جگر کیلئے بہت مفید ہے اور وہ محض