خطبات محمود (جلد 15) — Page 413
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ننگے نہ رہو۔تیسرے عورتوں کے زیورات پر خرچ ہوتا ہے یہ ضروری نہیں مگر ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔چوتھے بیماریوں کے علاج وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے اور یہ بھی قریباً ہر شخص کو کرنا پڑتا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو کبھی بیمار نہ ہوا ہو وگرنہ ہر شخص بیمار بھی ہوتا ہے اور و چنده که ان ڈاکٹروں کی فیسوں اور دوائیوں وغیرہ کا خرچ کرنا پڑتا ہے۔پانچویں آج کل بڑا خرچ تماشوں وغیرہ پر ہوتا ہے اور یہ خرچ شہروں وغیرہ میں خصوصیت سے زیادہ ہوتا ہے۔طالب علم ہفتہ میں ایک دو بار ضرور سینما دیکھتے ہیں اور ایک کافی تعداد ان کی دو روپیہ ماہوار کے قریب اس پر ضرور خرچ کر دیتی ہے حالانکہ آٹھ آنے ماہوار بھی نہیں دے سکتے۔تھیٹر، سرکس اور دوسرے تماشے وغیرہ اتنے ہیں کا گننا بھی مشکل ہے۔پھر بعض دفعہ کرکٹ اور فٹبال وغیرہ کے میچ ہوتے ہیں ان پر بھی ٹکٹ ہوتا ہے پھر گھوڑ دوڑیں ہیں۔ہمارے ملک میں گو اس کا رواج کم ہے مگر پھر بھی یہ ایک خرچ ہے۔غرض تماشوں کا خرچ بھی آج کل کافی ہو جاتا ہے۔لاہور میں سترہ اٹھارہ سینما ہیں۔روزانہ دو کھیل ہوتے ہیں اور اس طرح ۳۵-۳۶ سمجھو۔اگر فی شو دو سو آدمی بھی سمجھا جائے گو اس سے زیادہ ہوتے ہیں تب بھی سات ہزار نے روزانہ تماشا دیکھا اور ٹکٹ کی قیمت اگر ایک روپیہ بھی اوسط رکھ لی جائے تو گویا سات ہزار روپیہ روزانہ سینما پر خرچ ہوتا ہے۔یہ اندازہ میرے نزدیک بہت کم کر کے لگایا گیا ہے مگر اس کے مطابق بھی سوا دو لاکھ روپیہ ماہوار اور پچیس لاکھ روپیہ سالانہ سینما پر خرچ ہوتا ہے۔دوسرے تماشے وغیرہ بھی شامل کرلئے جائیں تو ان اخراجات کا اندازہ پچاس لاکھ بھی کم ہے۔یہ رقم صرف لاہور کی ہے اور پنجاب بھر میں ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ سے کم خرچ نہ بنے گا۔اگر دیہات کی کھیلیں بھی شامل کرلی جائیں تو چونکہ دیہاتی آبادی زیادہ ہوتی ہے پنجاب میں یہ خرچ تین کروڑ کے قریب پہنچ جاتا ہے اور یورپ میں تو یہ خرچ بہت ہی زیادہ ہے۔انگلستان کی آبادی چار کروڑ ہے مگر اندازہ کیا گیا ہے کہ ایک سال میں وہاں سینما پر چار کروڑ پاؤنڈ خرچ ہوا۔اگر اس کے ساتھ دوسرے تماشوں اور گھوڑ دوڑوں وغیرہ کو شامل کرلیا جائے تو خرچ اس سے دوگنے سے کم نہ ہوگا۔گویا اندازہ ایک ارب بیس کروڑ روپیہ۔یا تیس روپیہ فی کس سالانہ یا اڑھائی روپیہ فی کس ماہوار اور