خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 405

خطبات محمود ۴۰۵ ۳۷ مخلصین جماعت احمدیہ سے جانی اور مالی قربانیوں کے مطالبات فرموده ۲۳ - نومبر ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ جمعہ میں اس آئندہ تجویز کے متعلق اور اس لائحہ عمل کے متعلق جو میں جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں تمہیدی طور پر ایک بات بیان کی تھی۔اب میں اسی تمہید کے سلسلہ میں ایک اور بات بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں بعض باتیں انسان کو مجبوراً اپنے مخالفوں سے چھپانی پڑتی ہیں۔وہ اپنی ذات میں قبری نہیں ہوتیں۔اس فعل کے معاً بعد اگر ان کو ظاہر کر دیا جائے تو دنیا کا کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا لیکن جس وقت ان پر عمل کیا جارہا ہو ، اگر مخالف کو اس کا علم ہو جائے تو انسان کے لئے کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک فوج ایک شہر پر حملہ کرتی ہے ایک مظلوم قوم کی فوج جو ظالم کے دفاع کیلئے بلکہ اس قلعہ کے فتح کرنے کے لئے آگے بڑھتی ہے جو اس کا اپنا تھا تو یہ نہ صرف اچھی بات بلکہ ثواب کا موجب ہے لیکن اگر یہ لوگ دشمن کی فوج کو یہ کہلا بھیجیں کہ ہم فلاں درہ سے داخل ہوں گے، اتنے سپاہی، اتنی بندوقیں ، اتنی تو ہیں ہمارے ساتھ ہوں گی، ہمارے لڑنے کا طریق یہ ہوگا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ان کا توڑ سوچ لے گا اور آسانی سے ان کے حملہ کو رد کردے گا۔پس گو اس قسم کا حملہ نیک کام ہے اور ثواب کا موجب ہے مگر اس کے اظہار کی