خطبات محمود (جلد 15) — Page 33
خطبات محمود ٣٣ سال ۱۹۳۴ بے فائدہ تھا اس رویا کا مطلب تو یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کی تفسیر میرے دل میں ڈالی گئی اور فرشتہ کا یہ کہنا کہ اس وقت تک جو تفاسیر لکھی گئی ہیں۔وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ تک کی ہیں، اس کا یہ مطلب ہے کہ اس سورۃ کا یہاں تک کا حصہ بندہ کا کام ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالی کہتا ہے کہ میں نے سورۃ فاتحہ کو اپنے اور بندہ کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔آدھی خود رکھ لی اور آدھی بندہ کو دے دی ہے ہے۔گویا یہاں تک بندہ کا کام ہے۔بظاہر تو پہلا حصہ خدا تعالیٰ کی صفات ہی ہیں۔مگر بندہ جب اسے پڑھتا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ کی صفات کا اظہار کرتا ہے۔اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے آگے خدا کا کام ہے۔اور یہ ایسی بات ہے جسے وہی معلوم کر سکتا ہے جسے خدا کا قرب حاصل ہو۔اس رؤیا کے زمانہ سے لے کر آج تک کبھی میں نے قرآن کو ہاتھ نہیں لگایا کہ نئے علوم مجھ پر نہ کھلے ہوں۔اور جب بھی میں نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی ہے، نئے رنگ میں کی ہے، میرے خطبات کو پڑھ کر دیکھ لو اس وقت تک میں سو سے زیادہ تفاسیر اس کی بیان کرچکا ہوں اور ابھی یہ خزانہ ختم نہیں ہوا۔یہی حال سارے قرآن کا ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قرآن کو اخلاص سے پڑھیں ہر جماعت کو چاہیے کہ درس جاری کرے اسی طرح لاہور کی جماعت بھی کرے، یہاں ہوسٹل ہے وہاں بھی درس ہونا چاہیے۔مجھے نہیں معلوم کہ ہوتا ہے یا نہیں لیکن اگر ہوتا ہے تو بے قاعدہ ہوتا ہو گا۔بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی خود نہیں سمجھ سکتے اس لئے ابتداء انہیں سہارا کی ضرورت ہوتی ہے جو درس سے حاصل ہو سکتا ہے۔یا اگر مسجد، ہوسٹل یا جو دوست دور دور رہتے ہیں وہ محلہ وار جمع ہو کر درس کا انتظام کریں اور جن کیلئے محلہ وار جمع ہونا بھی مشکل ہو وہ گھر میں ہی درس دے لیا کریں تو جماعت میں تھوڑے ہی دنوں کے اندر علوم کے دریا بہہ جائیں۔درس کیلئے بہترین طریق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر کو مد نظر رکھا جائے۔آپ نے اگرچہ کوئی باقاعدہ تفسیر تو نہیں لکھی مگر تفسیر کے اصول ایسے بتادیئے ہیں کہ قرآن کو ان کی مدد سے سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہے اور سب سے زیادہ اس کیلئے انابت کی ضرورت ہے۔قرآن میں آتا ہے کہ لا يَمَسُّةَ إِلا الْمُطَهَّرُونَ سے یعنی اس کی گہرائیوں کو مطہر لوگ ہی پاسکتے ہیں۔مطر کے یہ معنی نہیں کہ انسان تمام عیبوں سے یکدم پاک ہو جائے اس کیلئے کوشش کرتے رہنا چاہیے لیکن یہاں پاکیزگی سے مراد خدا کی محبت کی