خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 32

خطبات محمود سم سال ۱۹۳۴ نو انگریزی وارد و ترجمه کب شائع ہوگا۔لیکن جہاں میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ یہ سوال کرسکتے ہیں اور مرکز کا فرض ہے کہ کوشش کر کے اس سوال کا جواب جلد دے، وہاں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کا پڑھنا پڑھانا کسی ترجمہ پر منحصر نہیں۔میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ۔جماعتوں میں درس قرآن کا انتظام ہونا چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت تک بہت سی جماعتیں اس سے محروم ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ایسا ذخیرہ اور ایسی باتیں موجود ہیں کہ جو شخص ترجمہ جانتا ہو یا کم سے کم ترجمے والے قرآن کے ذریعہ قرآن کا ترجمہ پڑھ سکتا ہو وہ غور و تدبر کرنے پر دوسرے علماء کہلانے والوں سے بہت زیادہ قرآن سمجھ سکتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر کوئی انسان کوشش کرے تو قرآن سیکھنے کیلئے دنیوی طور پر تعلیم یافتہ ہونا کوئی ضروری نہیں بلکہ اس کیلئے اخلاص، نیکی، تقویٰ اور انابت کی ضرورت ہے۔جب ایک انسان آستانہ الہی پر گر جائے اور خدا تعالیٰ کے آگے سر جھکا دے تو خدا تعالٰی ضرور اس کی مدد کرتا ہے۔میں چھوٹا بچہ تھا، تھوڑی ہی عمر تھی اور عربی کی ابتدائی کتابیں ہی پڑھ رہا تھا کہ میں نے ایک رڈیا دیکھا۔پہلے تک کسی ایک آواز آئی جیسے کٹورے پر اُنگلی یا کوئی چیز مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔پھر وہ آواز پھیلنا شروع ہوئی اور ایک وسیع میدان کی صورت اختیار کر گئی۔ایک ایسا میدان کہ جس کی نہ ابتداء نظر آتی تھی نہ انتہاء پھر میں نے دیکھا کہ اس میں سے سینما کی فلم کی طرح کی کوئی چیز نمودار ہونا شروع ہوئی۔اور جوں جوں وہ نزدیک ہوتی گئی اس میں سے ایک تصویر کی صورت ظاہر ہونے لگی اور میں نے اسے پہچانا شروع کیا تو وہ ایک زندہ انسان کی صورت تھی۔اور مجھے بتایا گیا کہ فرشتہ ہے۔وہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر پڑھاؤں۔میں نے کہا پڑھائیے اور وہ پڑھانے لگ گیا۔جب اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک پڑھا چکا تو کہنے لگا کہ اِس وقت تک جتنی تفاسیر لکھی گئی ہیں، وہ یہیں تک کی ہیں۔میں آپ کو آگے پڑھاؤں؟ میں نے کہا ہاں پڑھائیے اور وہ پڑھانے لگ گیا۔جب میں بیدار ہوا تو اس میں سے کئی باتیں مجھے یاد تھیں اور و میں نے انہیں نوٹ بھی کرنا چاہا مگر کیا نہیں۔یہ غالبا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب کا زمانہ تھا مجھے ٹھیک یاد نہیں۔یا اگر حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا تو ابتدائی ایام ہی تھے۔میں نے اس رویا کا ذکر حضرت خلیفہ اول سے کیا۔آپ نے افسوس کیا کہ باتیں میں نے کیوں نہ لکھ لیں۔مگر بعد میں اللہ تعالی کی طرف سے مجھ پر ظاہر ہوا کہ لکھنا وہ