خطبات محمود (جلد 15) — Page 283
خطبات حمود ٣٨٣ سال ۱۹۳۴ء بہت نہیں سکتا۔آپ کی فرمانبرداری ذلت اور بے چارگی کی فرمانبرداری نہیں تھی بلکہ طاقت کے ساتھ فرمانبرداری تھی۔جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، پولیس کے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا آپ بغیر ہتھیاروں کے ان کے ساتھ مل کر پہرہ دیتے تھے۔انہوں نے ہمارے دوستوں بھی کہا کہ ہم لوگ جو آپ کی خدمت کیلئے آئے ہیں، آپ کو کیا ضرورت ہے کہ تکلیف کریں خصوصاً اس صورت میں کہ آپ کے پاس ہتھیار بھی نہیں ہیں اور آپ کے خلاف اس قدر جوش پھیلایا جارہا ہے اور خطرہ ہے آپ کیوں نستے پھرتے ہیں۔مگر جب ان کو جواب دیا جاتا ہے کہ ہم آپ کی ہمدردی کے ممنون ہیں مگر اپنے مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا بھی فرض ہے اور ہم اس کیلئے مجبور ہیں۔تو ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا آپ لوگ ہمدردی کہتے ہیں ہمارے دلوں میں آپ لوگوں کے متعلق جو جذبات ہیں وہ ہمدردی سے بہت زیادہ ہیں اور ہم انہیں بیان نہیں کرسکتے۔اس کے بعد میں اس امر کا ذکر کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں جو اشتعال دلانے والے تھے ، پولیس کے افسروں اور ماتحتوں کا رویہ بہت اعلیٰ درجہ کا اور قابل تحسین رہا ہے۔ان میں سے بیشتر حصہ اس بیہودگی کو محسوس کرتا تھا جو اس جگہ جلسہ کی اجازت دینے میں ہوئی ہے، وہ قانون اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ جو ہمارے متعلق استعمال کئے گئے ان سے وہ خود دیکھ محسوس کرتے تھے۔ان میں سے بعض مجھے ملنے بھی آئے بعض علیحدگی میں ملے اور بعض عام مجالس میں، ان کے علاوہ ان میں سے بہت سے ہماری جماعت کے سینکڑوں لوگوں سے ملے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی اور اپنے دوستوں کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ احمدیوں کو بلاوجہ دکھ دیا گیا ہے اور ایسا جلسہ جس کی غرض سوائے تضحیک اور توہین کے کچھ نہیں، یہاں خواہ مخواہ منعقد کرایا گیا ہے۔گو وہ لوگ اس وقت میرے سامنے نہیں مگر میرا فرض ہے کہ ان کے متعلق بھی جذبات امتنان کا اظہار کروں۔وہ لوگ ہمارے ہم خیال نہ تھے ، بعض ان میں سے جلسہ کرنے والوں کے ہم عقیدہ تھے ، بعض سکھ یا ہندو تھے مگر سب نے شریفانہ رویہ رکھا، سوائے چند ایک کے جنہوں نے بعض ناشائستہ حرکات کیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے رویہ کے متعلق ہمیں جو احتمال تھا اس سے بہت اچھا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے یہاں نمونہ دکھایا اور نہ صرف انگریز افسروں بلکہ ہندوستانی افسروں نے بھی بہت شریفانہ رویہ دکھایا اور سپاہی تو بہت ہی متاثر تھے