خطبات محمود (جلد 15) — Page 277
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہوں۔اگر میں قانون کا احترام کر رہا ہوں تو ہماری جماعت کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اس قانون کی پابندی کرے اور ہماری طرف سے جو وعدہ کیا گیا ہے اسے پورا کرے اور ان ایام میں کسی قسم کی کوئی سوئی اپنے پاس نہ رکھے۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سات یا آٹھ دن تک اگر اللہ تعالٰی نے مجھے زندگی اور توفیق بخشی تو میں ایک نہایت ہی اہم اعلان جماعت کیلئے کرنا چاہتا ہوں۔چھ یا سات دن قبل میں وہ اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔اس اعلان کی ضرورت اور اس کی وجوہ بھی میں اُسی وقت بیان کروں گا لیکن اس سے پہلے میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ احمدی کہلاتے ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ خدا تعالی کی چنیدہ جماعت ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ خدا تعالی کے مامور پر کامل یقین رکھتے ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے آپ نے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رکھے ہیں اور آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگوں نے جنت کا سودا کر لیا۔یہ دعویٰ آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر ذہرایا بلکہ آپ میں سے ہزاروں انسانوں نے اس عہد کی ابتداء میرے ہاتھ پر کی ہے کیونکہ وہ میرے ہی زمانہ میں احمدی ہوئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے ، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیز و اقارب، تمہارے اموال اور تمہاری جائدادیں تمہیں خدا اور اس کے رسول سے زیادہ پیاری ہیں تو تمہارے ایمان کی کوئی حقیقت نہیں اے۔یہ ایک معمولی اعلان نہیں بلکہ اعلان جنگ ہوگا ہر اُس انسان کیلئے جو اپنے ایمان میں ذرہ بھر بھی کمزوری رکھتا ہے، یہ اعلان جنگ ہوگا ہر اس شخص کیلئے جس کے دل میں نفاق کی کوئی بھی رگ باقی ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے تمام افراد إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ سوائے چند لوگوں کے سب سچے مومن ہیں اور اس وعدے پر قائم ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا اور اس وعدے کے مطابق جس قربانی کا بھی ان سے مطالبہ کیا جائے گا' اسے کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔خطبہ جمعہ میں بولنا تو منع ہے لیکن اگر امام اجازت دے تو انسان بول سکتا ہے ہے۔پس میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ اُس وعدے پر قائم ہیں جو آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر کیا؟ چاروں طرف سے یقیناً ہم قائم ہیں اور لبیک کی آوازیں بلند ہوئیں) اس کے بعد میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب آپ لوگ اپنی جانیں میرے ہاتھ پر فروخت کر چکے ہیں ؟