خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 267

خطبات محمود ۲۶۷ جماعت احمدیہ ہوشیار اور بیدار رہے (فرموده ۱۲- اکتوبر ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج میں اسی سلسلہ میں جس کے متعلق پچھلے خطبات میں بعض بدایات دیتا رہا ہوں، ایک بات کہنا چاہتا ہوں لیکن سب سے پہلے اس امر کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ اب لوگ مسجد میں زیادہ ہوتے ہیں اور منبر تک پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے۔جو مؤذن مسجد میں داخل ہونے کے ساتھ ہی اذان شروع کر دیتے ہیں، وہ اپنی مرضی سے نہیں کرتے بلکہ میری ہدایت یہی ہے کہ جب میں مسجد میں داخل ہوں وہ اذان شروع کردیں تا لوگوں کے مصافحوں سے فارغ ہو کر میں خطبہ کیلئے تیار ہو جاؤں اور یہی طریق حضرت خلیفہ المسیح اول کا تھا۔وہ بھی جب مسجد میں داخل ہوتے تو اشارہ فرما دیتے تھے کہ اذان شروع کردی جائے۔(یہ وضاحت حضور نے اس لئے فرمائی کہ اس جمعہ میں ایک صاحب نے مؤذن کو روکا تھا کہ اس وقت تک اذان شروع نہ کرو جب تک کہ حضور منبر پر پہنچ کر خطبہ کیلئے تیار نہ ہو جائیں) وہ امر جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ قادیان میں احراری فتنہ کی وجہ سے ہماری جماعت کے بعض لوگ مضطرب سے ہوئے جاتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں کچھ گھبراہٹ اور جلد بازی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ وشیار رہے۔اور اس میں رسول کریم لک کی مثال ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ایک دفعہ مدینہ کے باہر شور ہوا تو آپ معا گھر سے نکلے اور کسی صحابی کا گھوڑا لے کر جو ایسی جگہ بندھا