خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 21

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کامیابی یقینی ہے۔آج کل رمضان کے دن ہیں اور روزے رکھا کر اللہ تعالی ہمیں بیکسوں کی شکل دینا چاہتا ہے۔جس طرح ایک غریب اور مفلس آدمی کہتا ہے کہ میں بھوکا مرتا ہوں، اسی طرح اللہ تعالٰی بھی ہمیں روزوں کے ذریعہ بھوکے مرنے والوں کی طرح بنا کر اور عجز و انکسار پیدا کر کے ہمیں اپنا قرب دینا چاہتا ہے اور بتاتا ہے کہ میری رضاء کا یہی ذریعہ ہے کہ تم دنیا میں بھوکے مرنے والوں کی طرح عجز و نیاز اختیار کرو۔آج میں گھر سے اسی نیت سے آیا تھا کہ آپ لوگوں کو نصیحت کروں کہ دائمی انکسار پیدا کرو۔وہ بھی کیا انکسار ہے کہ ایک شخص کی چیخ سنتے ہو اور رونے لگ جاتے ہو۔اگر اس کی شیخ نہ سنتے تو تم بھی نہ روتے۔ایک کو دعا کرتے دیکھتے ہو تو تمہیں بھی دعا کا خیال آجاتا ہے اگر یکھتے تو تمہیں بھی خیال نہ آتا۔یہ رونا اور یہ دعائیں خدا کے حضور مقبول نہیں ہوتیں۔رونا وہ ہے کہ آنکھیں پیچھے روئیں مگر دل پہلے رو پڑے محض آنکھوں سے آنسو بہانا کوئی چیز نہیں۔بچے بھی بعض دفعہ ماں باپ یا اپنے استاد کو ڈرانے کیلئے آنکھوں میں کچھ ڈال لیتے ہیں جس کی وجہ سے لگاتار آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ تصنع اور بناوٹ ہے۔تمہیں چاہیے کہ حقیقی طور پر اپنے دل میں رقت اور انکسار پیدا کرو۔یہی وہ رونا ہے جس سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔جب تمہارے اندر سے کبر مٹ جائے، خود پسندی و خودستائی کی عادت جاتی رہے، عجز و انکسار دائمی طور پر پیدا ہو جائے اور تمہارے منہ سے کبھی یہ نہ نکلے کہ دیکھوں تو سی کوئی میرا کیا بگاڑ لیتا ہے یا میں تجھے بتادوں گا اُس وقت اللہ تعالٰی کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی اور تمہاری دعائیں بھی سُنی جائیں گی۔پچھلے سے پچھلے سال کشمیر کے مظلومین کے متعلق ایک میٹنگ ہوئی۔اُس وقت ایک احراری لیڈر اُٹھا اور اُس نے کہا ہم احمدیوں کو مٹادیں گے اور انہیں کام نہیں کرنے دیں گے کیونکہ ملک کے حقیقی نمائندے ہم ہیں۔اسی طرح اُس نے کئی باتیں کہیں مگر میں دل میں سمجھ رہا تھا کہ میں جو بھی اسے جواب دوں گا غلط ہو گا۔میرا زیادہ سے زیادہ یہی جواب ہو سکتا تھا کہ تم ہمیں کس طرح کچل سکتے ہو مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ آئندہ کیا واقعات رونما ہونے والے ہیں۔میں اُس کی باتیں سن کر مسکراتا رہا اس لئے کہ جو بات وہ کہہ رہا تھا اُس کے متعلق نہ اُسے کچھ علم تھا نہ مجھے کچھ علم تھا۔میرے لئے اپنی عمر میں غیروں سے اس قسم کے الفاظ سننے کا یہ پہلا موقع تھا۔اپنوں سے تو کئی دفعہ سن چکا تھا مگر غیروں میں ہونے کے باوجود اللہ تعالٰی کے فضل سے میرے منہ سے یہ نہ نکلا کہ