خطبات محمود (جلد 15) — Page 261
خطبات محمود ۲۶۱ سال ۱۹۳۴ء ہوا کہ وہ نئے نئے کام پیدا کریں۔اسلام کی ترقی کیلئے نئی نئی سکیمیں سوچیں اور افسر کا یہی کام نہیں کہ وہ دیکھے اس کے ماتحت افراد کام کرتے ہیں یا نہیں بلکہ ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے کام کو عمدگی سے چلانے کیلئے نئے نئے طریقے اور سکیمیں سوچیں۔اگر ایک جرنیل صرف یہی دیکھتا رہتا ہے کہ دشمن کہاں سے حملہ کرتا ہے کہ میں اس کا مقابلہ کروں تو وہ کبھی کامیاب جرنیل نہیں کہلا سکتا۔وہی جرنیل کامیاب ہو سکتا ہے جو نہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ دشمن کہاں سے حملہ کرے گا بلکہ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ میں کہاں سے حملہ کروں۔اسی طرح ناظروں میں سے وہی ناظر کامیاب ہو سکتا ہے جو اپنے فرائض کی بجا آوری اور اسلام کی اشاعت کیلئے نئے نئے راستے تلاش کرتا رہتا ہے۔مثلاً ناظر اصلاح و ارشاد کا صرف یہ کام نہیں کہ باہر لکھا اور وہاں سے رپورٹیں آگئیں یا مبلغین کو حکم دے دیا کہ وہاں چلے جاؤ اور وہ چلے گئے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ خود ایسی راہیں پیدا کرے جن پر چل کر لوگ اسلام میں داخل ہوں اور وہ نئی نئی سکیمیں تجویز کرے۔اسی طرح تربیت والوں کا یہ کام نہیں کہ اگر بعض میں لڑائی ہو جائے تو آپس میں صلح کرا دیں۔کوئی شخص جماعت کے وقار اور اس کی کے خلاف حرکت کرے تو اسے سزا دے دیں بلکہ ان کا یہ کام ہے کہ اگر وہ دیکھیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو روزے نہیں رکھتے ، بعض لوگ ایسے ہیں جو نمازیں نہیں پڑھتے، بعض لوگ ایسے ہیں جو انصاف سے کام نہیں لیتے، بعض لوگ ایسے ہیں جو گالیاں دیتے ہیں، بعض لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں، بعض لوگ ایسے ہیں جن کا معاملہ خراب ہے تو وہ دن رات یہ سوچیں کہ جماعت سے یہ بُرائیاں کس طرح دور ہوں اور اس کیلئے نئے نئے راستے نکالنے کی کوشش کریں۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ ہمیں سامان میسر نہیں۔ہماری طرف سے صرف ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہاں یہ امر ضروری ہے کہ دماغ پر زور دیا جائے اور غور و فکر سے کام لیا جائے۔میں اپنا تجربہ ہی بیان کرتا ہوں۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ شام کے قریب میرے ذہن میں کوئی بات آتی ہے اور چونکہ دفتر اُس وقت بند ہوتا ہے اس لئے چین نہیں آتا۔سو جاتا ہوں تو دس دس منٹ کے بعد اس فکر سے آنکھ کھل جاتی ہے کہ مبادا صبح تک یہ بات ذہن سے اتر جائے اور گو میں نے کام کی تقسیم کی ہوئی ہے اس کے لحاظ سے اللہ تعالٰی کے