خطبات محمود (جلد 15) — Page 250
۲۵۰ ۲۹ خطبات محمود مانگنے اور سوال کرنے کی عادت کو مٹانا نہایت ضروری ہے فرموده ۱۴- ستمبر ۱۹۳۴ء - بمقام قادیان) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں اختصار کے ساتھ مساجد کے ذمہ دار لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اخلاقی ترقی اور ہمت و استقلال کی بلندی کیلئے آواز کی بلندی بھی ضروری چیز ہوتی ہے۔اونچی آواز کے ساتھ انسان کا حوصلہ بھی بڑھتا ہے اور ارادہ بھی ترقی کرتا ہے اس لئے متواتر آٹھ دس سال سے جب بھی مدارس میں کوئی دعوت کی تقریب ہوتی ہے میں مدرسین اور ہیڈ ماسٹروں کو توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ طلباء کی آواز بلند کرنے کی کوشش کیا کریں لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس نہایت اہم معالمہ کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔اس کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ آواز کی بلندی کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا جاتا اور یا یہ کہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کی آواز پست ہو وہ بلند نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ آواز کی بلندی کا انسان کی ترقی اور اس کے ارادوں کی بلندی میں کوئی دخل نہیں تو وہ غلطی کرتا ہے۔اللہ تعالی نے جب بھی کوئی نبی مبعوث کیا ہے اسے سلاست زبان، تقریر کا ملکہ اور قوت گویائی بھی عطا کی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے جو دعا مانگی اس میں بھی ذکر ہے کہ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ نِسَانی له یعنی میری زبان میں جس قسم کی بھی مگر ہیں ہوں ان کو دور کردے اور زبان کی گرہ میں لکنت، آواز کی پستی الفاظ کی پستی سب چیزیں شامل ہیں۔پس اس دعا کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا! مجھے بلندی آواز عطا فرما اور میرے الفاظ میں