خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 248

۲۴۸ سال خطبات محمود آگئے۔مگر یہ ہجرت کا نہیں بلکہ مصیبت زدوں کا ایک ڈیرہ ہے۔مہاجر تو اس لئے آتا ہے کہ وہ اپنی جان اور اپنا مال خدا کی راہ میں قربان کرے گا مگر یہ اس لئے یہاں آتا ہے کہ سلسلہ کے لوگ اپنی جان اور اپنا مال اس کیلئے قربان کریں۔پس یہ ہجرت نہیں کہلا سکتی بلکہ مسکینی اور فقر ہے جس کو دور کرنے کیلئے وہ یہاں آجاتا ہے۔مگر بہر حال جب وہ آگیا تو محلہ والوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس کا خیال رکھیں۔میرے نزدیک ہر محلہ کے عہدہ داروں کا یہ کام ہے کہ ہے وہ اپنے اپنے محلہ کے لوگوں کی نگرانی رکھیں اور دیکھیں کہ کوئی بھوکا تو نہیں۔مثلاً ہو سکتا کوئی بیوہ ہو جس کے کھانے کا کوئی انتظام نہ ہو، کوئی مسکین ہو جو بے سامان ہو۔پس جب کسی ایسی بیوہ یا مسکین کا انہیں علم حاصل ہو جس کا بوجھ سلسلہ نہیں اٹھا رہا تو ان کا فرض ہے شخص کہ وہ محلہ کے لوگوں کے کھانوں میں سے اسے کھانا مہیا کریں کیونکہ محلے میں کسی ایک کا بھوکا رہنا بھی محلے والوں کی ناک کاٹ دیتا ہے۔پس محلے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے محلوں کے بھوکوں کا انتظام کریں اور کوشش کریں کہ کسی محلے کا کوئی فرد رات کو بھوکا نہ سوئے اور اگر انہیں کسی بھوکے شخص کا علم ہو تو محلے والوں کا فرض ہے کہ وہ کھانا جمع کر کے اسے دیں اور چاہے آپ بھوکا رہنا پڑے اسے کھلائیں کیونکہ اگر کھانا نہ ہو تو وہ زیادہ تکلیف دیا کرتا ہے لیکن اگر کھانا تو ہو مگر کسی غریب کو دے دیا جائے اور خود بھوکا رہا جائے تو اس سے کم تکلیف محسوس ہوتی ہے۔جس کے پاس کھانے کیلئے کوئی سامان نہ ہو اسے دو تکلیفیں ہوتی ہیں کھانا نہ ہونے کی بھی اور اپنی بے چارگی کی بھی۔اور جس کے پاس ہو تو سہی مگر وہ کھائے نہیں اسے اتنی تسلی ضرور ہوتی ہے کہ میرے گھر میں سامان سب موجود ہے جب چاہوں گا کھالوں گا۔جیسے روزوں کے دنوں میں ہم کھانا نہیں کھاتے مگر ہمارے دل کو تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ تکلیف ہم نے خود اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنے وارد کی ہوئی ہے لیکن جس کے پاس کھانا نہ ہو اسے اپنی بیچارگی کا احساس بہت زیادہ تکلیف دیتا ہے۔نفس : پس اگر کوئی شخص بھوکا ہو تو اسے اپنے کھانوں میں سے تھوڑا تھوڑا کھانا نکال کر دے دینا چاہیئے اس لئے خود بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور اسے بھی کھانا مل جائے گا۔میں نے اکثر دیکھا ہے اگر انسان اپنی غذا میں کمی کر دے تو تھوڑی پر ہی گزارا ہو جاتا ہے اور اگر زیادہ غذا کی عادت ڈال لے تو زیادہ کھائے بغیر چین نہیں آتا۔دعوتوں کے موقع پر بعض ٹھونس ٹھونس