خطبات محمود (جلد 15) — Page 223
+19177 ۲۲۳ خطبات محمود یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی اصلاح ہونی نہایت ضروری ہے۔ساڑھے سات ہزار کے قریب جہاں آبادی ہو وہاں اول تو اخراجات کے لحاظ سے ہی محدود ذرائع کے آدمی کے کی دعوت کا انتظام کرنا ناقابلِ برداشت ہے اور اگر دو اڑھائی ہزار روپیہ خرچ کرکے سب کو دعوت دی بھی جائے تو بھی سب کو ایک انتظام کے ماتحت کھانا کھلانا سخت مشکل ہوتا ہے۔جلسہ سالانہ کے دنوں کے متعلق ہی دیکھ لو دال روٹی یا شوربہ روٹی کھلائی جاتی ہے لیکن انتظام کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔مہینوں پہلے انتظام شروع کر دیا جاتا ہے، جلسہ کے دنوں میں قادیان کے تمام احمدی دن رات کام کرتے ہیں، مہمانوں سے بھی کام لیا جاتا ہے تب کہیں جاکر کام ہوتا ہے۔پس نہ تو اتنی بڑی دعوت کا انتظام آسانی سے ہو سکتا ہے اور نہ مالی لحاظ سے اس قدر خرچ برداشت کیا جاسکتا ہے۔پس ہر دوست کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قسم کی باتوں کو عملی جامہ پہنانا انسانی طاقت کیلئے ناممکن ہے اور جو ناممکن ہو اسے کس طرح کیا جاسکتا ہے۔میں جانتا۔وہ ہوں کہ بعض لوگ طبعی طور پر محبت کے جذبات کے ماتحت یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہماری دعوت کھانے سے محروم رہیں، میں ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں لیکن ہر محبت عقل کے ماتحت ہونی چاہیے۔جب عقل کا قبضہ اٹھ جاتا ہے تو محبت بیوقوفی کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی شخص تھا جس کی کسی ریچھ سے دوستی ایک دفعہ اس کی ماں بیمار ہوئی۔وہ ریچھ کو ایک کپڑا دے کر اپنی والدہ کے پاس بٹھا گیا تاکہ وہ لکھیاں اُڑاتا رہے۔لکھی جب بیٹھے تو ریچھ اُڑا دے مگر تھوڑی دیر بعد پھر آ بیٹھے۔آخر اس محبت کے جوش میں کہ بار بار کیوں لکھی بیٹھی ہے وہ ایک بڑی سی پتھر کی رسل اُٹھالایا اور جب پھر لکھی بیٹھی تو اس نے زور سے وہ رسل دے ماری۔لکھی تو مرگئی مگر وہ عورت بھی ساتھ ہی رخصت ہو گئی۔اب ریچھ نے ظاہر تو محبت ہی کی تھی مگر کوئی عظمند اسے محبت تسلیم نہیں کر سکتا۔رسول کریم کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔آپ سے زیادہ کوئی مہربان نہیں ہو سکتا آپ کی ایک شخص نے دعوت کی اور چار اور صحابہ کو بھی مدعو کیا۔جب رسول کریم ﷺ کے مکان کی طرف چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ شامل ہو گیا۔جب آپ دروازہ پہنچے تو اس شخص سے جس نے دعوت کی تھی، فرمایا کہ تم نے میری اور میرے چار دوستوں کی دعوت کی تھی ہمارے ساتھ یہ بھی شامل ہو گیا ہے اگر اجازت ہو تو آجائے نہیں تو واپس شخص