خطبات محمود (جلد 15) — Page 128
خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۴ ہے۔کیونکہ اُس وقت تک آپ نے دعوی نہیں کیا تھا۔براہین احمدیہ چونکہ خاص طور الہام الہی کے ماتحت لکھی گئی تھی اس لئے اس میں دوسری تحریروں سے بہت کچھ امتیاز نظر آتا ہے تاہم ایک رنگ کا اشتراک بھی پایا جاتا ہے مگر جب آپ نے دعویٰ فرمایا تو اُس وقت سے لے کر وفات تک آپ کی تحریر و تبلیغ کا رنگ بالکل جداگانہ ہے۔جا سکتا دونوں زمانوں کی تحریرات پڑھ کر دیکھ لو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے کی تحریرات کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں پڑھنے والے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جائیں مگر بعد میں جو کتابیں آپ نے لکھی ہیں، ان کی یہ غرض معلوم ہوتی ہے کہ بچے مسلمان بن جائیں، صرف نام کے طور پر اسلام میں داخل نہ ہوں منہ سے کلمہ نہ پڑھیں بلکہ دل سے پڑھیں۔فلسفیانہ دلائل اور عقلی بحثیں بھی بے شک آپ کی تحریروں اور تقریروں میں موجود ہیں مگر بالکل ضمنی طور پر ، وگرنہ انہی دلائل پر زیادہ زور ہے جو خدا کے قریب کرنے والے ہیں۔دعوئی سے پہلے کی تحریرات میں آپ نے یہ بحثیں کی ہیں کہ سبب کیا ہے، علت کیا ہے، ان کے نتائج کیا ہیں، خواص کیا ہیں اور ان سے خدا تعالیٰ کے متعلق کس طرح استدلال کیا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ میں اگرچہ اس رنگ کو جو غلط طور پر اختیار کیا گیا تھا رو بھی کیا ہے مگر ساتھ ہی اس مضمون کو استعمال بھی کیا ہے۔سرمہ چشم آریہ میں بھی ایک حد تک اسے استعمال کیا ہے مگر دعوئی کے بعد یہ سب طریق آپ نے بدل دیئے۔اس وقت آپ نے زندہ مذہب اور زندہ خدا کو پیش کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ جاؤ جا کر ارد گرد رہنے والوں سے پوچھو کہ ان گھروں میں کوئی رہتا ہے یا نہیں بلکہ یہ کہ آؤ تمہیں دکھاؤں ان میں جو رہتا ہے۔یہ دلائل ایسے ہوتے ہیں جن سے تزکیہ نفس ساتھ ساتھ ہی ہوتا جاتا ہے۔جو شخص کہتا ہے کہ دنیا کا کوئی خالق ہونا چاہیے اس میں اور جو خالق کو دکھا دیتا ہے، بہت بڑا فرق ہے۔جو شخص روح کی حقیقت دیکھنے کیلئے عقلی دلائل کے پیچھے پڑتا ہے، اسے روح کی صفائی کیلئے اور امداد کا محتاج ہونا پڑتا ہے مگر جو خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دے دے، وہ روح کے کاموں کو خود محسوس کرنے لگتا ہے اور خود بخود ہی اس کی روح کی اصلاح ہو جاتی ہے، اس لئے اسے کسی مزید دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔جب کسی کو روح کی حقیقت معلوم ہو جائے تو ساتھ ہی اسے صفائی کی طاقت بھی حاصل ہو جاتی ہے اور یہی انبیاء کا رنگ ہوتا ہے۔وہ بے تعلق اور لغو بحثوں میں وقت ضائع نہیں کرتے جو دنیا کی دلچسپی کا تو بیشک موجب ہو۔ہوسکتی ہیں مگر