خطبات محمود (جلد 15) — Page 125
خطبات محمود معلوم : ۱۲۵ سال ۱۹۳۴ء کا تو اس دنیا میں مسکھ حاصل کر سکیں گے اور قربانی کریں گے تو اگلے جہان میں سکھ پائیں گے۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تمام مذاہب کے افراد سے حسن سلوک کرے کیونکہ ہر قوم میں شریف لوگ پائے جاتے ہیں۔بیشک ہندو پریس کو دیکھنے سے ہندو قوم کے اخلاق کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا اور معلوم نہیں ہو سکتا کہ ہندوؤں میں کس قدر شریف لوگ پائے جاتے ہیں لیکن ہندوؤں کو ہندو پریس کے ذریعہ نہ جانچو۔مجھے تو جب بھی ہندوؤں سے ملنے کا موقع ملا میں نے ان میں بڑے بڑے شریف لوگ دیکھے۔پس ہندو وہ نہیں جن کا ہندو پریس سے پتہ لگتا ہے بلکہ ہندو وہ ہیں جو اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔یہی حال مسلمانوں کا ہے۔"زمیندار" پڑھ کر اگر کوئی شخص مسلمانوں کی حالت کا اندازہ لگانا چاہے تو وہ یہی سمجھے گا کہ مسلمان ایک غنڈہ قوم کا نام ہے لیکن اگر شہروں اور دیہات میں پھر کر دیکھو گے تو تمہیں ہوگا کہ ان میں بڑے بڑے شریف انسان پائے جاتے ہیں جن میں رُشد اور ہدایت کے مادہ موجود ہے اور جو چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔صرف اتنی بات ہے کہ ابھی تک انہیں سمجھ نہیں آئی کہ حق کدھر ہے۔یہی حال سکھوں کا ہے۔مجھے عام طور پر سکھوں کا پریس دیکھنے کا موقع نہیں ملا مگر میں نے سنا ہے کہ وہ بھی ہندو پریس کی طرح ہی ہے۔لیکن اگر افراد کے پاس جاؤ تو ان میں بھی بڑے بڑے قابل تعریف لوگ دیکھو گے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان میں سارے ہی اچھے ہیں کمی بیشی کا سوال ہر جگہ ہوتا ہے۔خدا کی جماعت میں شرفاء زیادہ ہوتے ہیں اور بد کم۔لیکن دوسروں میں نیکیوں کی کمی ہوتی ہے گو ہوتے ضرور ہیں اور چاہے وہ صداقت سے محروم ہوں، ان میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن میں صلاحیت، رُشد اور محبت کا مادہ پایا جاتا ہے۔تو ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ان سے اعلیٰ نمونہ دکھائے۔مولانا اسمعیل صاحب شہید کے متعلق میں نے حضرت خلیفہ اول سے سنا کہ وہ ایک دفعہ سندھ کے علاقہ سے گزر رہے تھے کہ انہیں معلوم ہوا ایک سکھ اتنا تیراک ہے کہ کوئی شخص اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔مولوی | صاحب فرماتے۔شہید صاحب نے یہ سنتے ہی اپنا سفر ملتوی کر دیا اور تیرنے کی مشق شروع کردی یہاں تک کہ آخر انہوں نے اس سکھ کو چیلنج دیا کہ آؤ مجھ سے مقابلہ کرلو۔جب دنیاوی معاملات میں ایک مومن کی غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی غیر اُس سے آگے نکل جائے تو اخلاق تو مذہب کا جزو ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کے لحاظ سے آگے نہ بڑھیں اور