خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 114

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء تعمیل ایمان کیلئے درستی عقائد واعمال کی ضرورت (فرموده ۶ - اپریل ۱۹۳۴ء) تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہر قسم کی نئی غذا چاہتا ہے بلکہ یہ بات اللہ تعالی کی تمام مخلوقات میں پائی جاتی ہے تاکہ یہ فرق قائم بالذات میں جو خدا تعالی کی ذات ہے، اور ان ذاتوں میں جو دوسروں کے سہارے قائم ہیں یعنی عام مخلوقات کی ذاتیں، ایک امتیاز قائم کردے۔یہی وجہ ہے کہ جب انسان کسی قسم کی غذا سے محروم ہو جاتا ہے تو باوجود اس کے کہ اس کے حجم میں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آتا اس کی طاقتیں اور قوتیں زائل ہو جاتی ہیں۔جس طرح ظاہری جسم کے متعلق یہ قانون جاری ہے، اسی طرح باطنی جسم کے متعلق بھی یہ قانون جاری ہے۔باطنی جسم بھی ظاہری جسم کی طرح مختلف قسم کی غذاؤں کا محتاج رہتا ہے۔کوئی غذا ایسی ہوتی ہے جس کی اسے ہر وقت ضرورت رہتی ہے جیسے جسم کو سانس کی ضرورت ہے اور کوئی غذا ایسی ہوتی ہے کہ جس کی اسے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد ضرورت ہوتی ہے جیسے انسان کو پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی غذا ایسی ہوتی ہے جس کے متعلق انسان لمبی دیر تک انتظار کر سکتا ہے جیسے کھانا کھانے کی حاجت ہوتی ہے۔وہ چیز جو بننزلہ سانس کے ہے کہ جس کے بغیر انسان زندہ رہ ہی نہیں سکتا اور جب وہ اس سے اپنے آپ کو خالی سمجھتا ہے، تب بھی کچھ نہ کچھ ہوا اس کے پھیپھڑوں میں رہ جاتی ہے جو اس کے دل سے کام کراتی رہتی ہے انسان کے اعتقادات کی غذا ہوتی ہے۔ایک لمحہ