خطبات محمود (جلد 15) — Page 107
خطبات محمود سال ۹۳۴ انسانی قبض اور بسط کی حالت فرموده ۳۰ مارچ ۱۹۳۴ء) تشہیر، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- انسانی فطرت کچھ ایسے رنگ میں وضع کی گئی ہے کہ وہ یکساں حالت پر نہیں رہتی، اس میں لہریں پیدا ہوتی ہیں، کبھی بسط کی حالت آتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک اُڑنے والا پرندہ ہے جسے اپنی زندگی میں سوائے اُڑنے کے اور کوئی چیز پسند ہی نہیں، کبھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانی میں بھیگا ہوا کپڑا یا بو جھل لوہا ہے جو بغیر کسی مقابلہ کی کوشش کے اور بغیر کسی جدوجہد کے طبعی طور پر نیچے ہی نیچے چلا جا رہا ہے۔یہی حالت ہے جسے قرآن کریم نے قبض اور بسط کی حالت بتایا ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے بھی اس کو انسانی حالت کے قیام اور روحانی ترقیات کیلئے ضروری چیز قرار دیا ہے اے۔ایک زمانہ ایسا تھا جبکہ قرآن نے ان معارف کو بیان نہیں فرمایا تھا اور دنیا کے لوگ خیال کرتے تھے کہ ہر انسان اپنی حالت کے مطابق اپنے درجہ پر قائم رہتا ہے اور کبھی لوگ یہ سننا یا سمجھنا یا اقرار کرنا گوارا نہ کرتے تھے کہ انسانی حالت میں مختلف اوقات میں کبھی فوقانی اور کبھی تحتانی تغیر ہوتا رہتا ہے لیکن قرآن کریم نے آکر اس حقیقت کو ظاہر کیا اور اس کے ظہور سے دو و عظیم الشان فائدے حاصل ہوئے۔ایک بہت بڑا فائدہ تو یہ ہوا کہ قبض کی حالت میں انسان پر جو مایوسی آتی ہے اس سے قرآن کریم نے بچالیا۔دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان ایسے ہوں گے یا کم سے کم ہوسکتے ہیں جن کے