خطبات محمود (جلد 15) — Page 95
خطبات محمود ۹۵ رواداری بھی نہیں کی۔پھر آپ نے اسے کچھ اور دیا جو راوی کو یاد نہیں رہا کیا تھا اور پھر پوچھا کیا اب تمہارے ساتھ حسن سلوک کردیا ہے؟ اس نے کہا ہاں اب واقعی کردیا ہے۔میری طرف سے اور میرے اہل و عیال کی طرف سے اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔آپ نے فرمایا۔تمہارے پہلے جواب سے سننے والوں کو غصہ آیا تھا جس سے ان کے دلوں میں تمہارے متعلق نفرت رہے گی اس لئے بہتر ہے کہ جب پھر مجلس بیٹھی ہو تو میں تم سے یہی سوال کروں گا اور تم اگر چاہو تو اپنے جواب سے ان کے جذبات میں تبدیلی کرسکتے ہو۔چنانچہ پھر مجلس کے موقع پر وہ آیا۔آپ نے اُس سے وہی سوال کیا اور اُس نے کہا ہاں آپ نے میرے ساتھ حسن سلوک کردیا اب میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ میری طرف سے اور میرے اہل و عیال کی طرف سے آپ کو جزائے خیر دے۔پھر آپ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا، نا واقف تھا اور مجھ سے حسن سلوک کی امید رکھتا تھا۔اس کی امید کے مطابق اس کے ساتھ حسنِ سلوک نہ ہوا اور تم اسے مارنے کیلئے دوڑے لیکن میں نے روکا اور اسے خوش کیا۔اور میری تمہاری مثال ایسی ہی ہے کہ کسی شخص کی اونٹنی بھاگ گئی اس کے رشتہ دار اور دوست سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو گئے اور اُس کے پیچھے بھاگنے لگے مگر وہ ان کے شور سے برک کر اور بھی تیز بھاگنے لگی۔اُس نے جب یہ حالت دیکھی تو کہا کہ بھائیو! میری حالت پر رحم کرو اور یہ احسان مجھ پر نہ کرو مجھے اور میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔اور جب وہ لوگ ہٹ گئے اور شور کم ہوا تو اونٹنی بھی ذرا آہستہ ہوئی۔اُس نے سبز گھاس اُکھاڑ کر اس کے سامنے کیا اور اس طرح چمکار کر اُسے پکڑ لیا۔اسی طرح یہ شخص میرے پاس آیا تو لوگوں نے یہ کوشش کی کہ یہ بدک کر بھاگ جائے۔اگر وہ چلا جاتا تو ضرور جہنم میں جاگرتا لیکن اللہ تعالی نے مجھے یہ کامیابی دی اور میں نے اسے بچا لیا۔آپ نے اُس وقت وہ محبت شفقت اور مہربانی ظاہر کی جو بنی نوع انسان کیلئے آپ کے دل میں تھی اور اس طرح بتادیا کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے۔ساری دنیا ہماری ضالة ہے۔پہلے مسیح نے اپنے نہ ماننے والوں کو گم گشتہ بھیڑیں قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میں انہیں جمع کرنے کیلئے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کھوئے ہوؤں کو جمع کرنے آئے ہیں۔اور عربستان کی نسبت سے جن کھوئے ہوؤں کو جمع کرنے کیلئے آپ آئے تھے انہیں اونٹ یا اونٹنیاں کہا جاسکتا ہے۔پس مسیح ناصری بھیڑوں کو جمع کرنے آئے تھے اور مسیح محمدی اونٹنیوں کو مگر بعض اوقات تم