خطبات محمود (جلد 15) — Page 75
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہوتی ہے۔ بارش کا کام اس میں نشوو نما دے دینا ہوتا ہے۔ الہام الہی بعینہ اسی طرح ہوتا ہے اور وہ بھی نشوو نما دے دیتا ہے۔ بدی پس الہام الہی سے جس طرح نیکوں کی خفتہ طاقتیں بیدار ہوتی ہیں، اسی طرح بد معاشوں کی طاقتیں بھی ابھر آتی ہیں اور وہ اس قسم کا رنگ اور طریق اختیار کر لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں دوبارہ پرانے شیطانوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جیسا کہ ایک نبی کی آمد کے ذریعہ دوبارہ پہلے انبیاء کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ پس ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا مقابلہ ایسی طاقتوں سے ہے جو ہماری طرح ہی آسمانی پانی سے موید ہیں۔ در حقیقت جس طرح رسول کریم ای آسمانی پانی سے مؤید تھے اسی طرح ابو جہل بھی آسمانی پانی سے مؤید تھا۔ قرآن مجید خود کہتا ہے- يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا یعنی قرآن مجید کے دو کام ہیں۔ یہ گمراہ کو اس کی گمراہی میں بڑھاتا اور ہدایت یافتہ کو اس کی ہدایت میں ترقی دے دیتا ہے۔ پس جس طرح قرآن مجید کی وحی محمد اس کے کھیت کو بڑھاتی اور سینچتی تھی اسی طرح قرآن مجید کی وحی ابو جہل کے کھیت کو بھی سینچتی اور بڑھاتی تھی۔ اور جس طرح محمد ال کی نیکی خدا تعالی کے ایک قانون سے تائید یافتہ تھی، اسی طرح ابو جہل کی : بھی ایک قانون سے مؤید تھی۔ ایک قانون اس کو کو مدد مددد دے رہا تھا اور اور ایک ا قانون اس کو و مرو دے رہا تھا۔ جس طرح دوسری جگہ بھی فرمایا ۔ كُلاً تُمِدُّ هَؤُلاءِ لاءِ وَهَؤُلاء یعنی نیک کو اس کی نیکی کے مطابق خدا تعالی کی طرف سے تائید ملتی ہے اور بد کو اس کی بدی کے مطابق تائید ملتی ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ بدی کو بڑھاتا ہے بلکہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ بدی باوجود اپنی ساری طاقتوں کے نیکی پر غالب نہیں آسکتی۔ اگر بدی کا سر پہلے ہی کچل دیا جائے تو وہ جلال جو انبیاء کی جماعتوں کو حاصل ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی تائید کا مظاہرہ جو مخالف حالات کے باوجود رونما ہوتا ہے، شاندار طور پر ظاہر نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ کا کلام دونوں سامان ساتھ لاتا ہے۔ اس میں وہ سامان بھی ہوتا ہے جو نیک کو اس کی نیکی میں پڑھا دیتا ہے اور وہ سامان بھی ہوتا ہے جو شریر کو اس کی شرارت میں بڑھا دیتا ہے۔ اگر الہاموں کا ایک پہلو مومنوں کے ایمانوں کے ازدیاد کا موجب بنتا ہے تو اس کا دوسرا پہلو مخالفین کیلئے اعتراضات پیدا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔ اگر ایک طرف جب نشان ظاہر ہو تو مومن کہتے ہیں کتنا عظیم الشان نشان ہے کیسا واضح اور کتنا کھلا ہے۔ تو دوسری طرف ایسے سید XXXXX