خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 67

خطبات محمود 46 سال " Flare حکم ہے کہ نرمی اختیار کرو خدا تعالی کی یہی تعلیم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھاتے جاتے تھے اور پروفیسر صاحب کا چہرہ سرخ ہوتا جاتا تھا۔ادب کی وجہ سے وہ بیچ میں تو نہ بولے مگر سب کچھ سن کر یہ کہنے لگے کہ میں اس نصیحت کو نہیں مان سکتا۔آپ کے پیر (یعنی آنحضرت ا ) کو اگر کوئی ایک لفظ بھی کہے تو آپ مباہلہ کیلئے تیار ہو جاتے ہیں اور کتابیں لکھ دیتے ہیں مگر ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پیر کو اگر کوئی گالیاں دے تو چُپ رہیں۔بظاہر یہ بے ادبی تھی مگر اس سے اُن کے عشق کا پتہ ضرور لگ سکتا ہے۔جب فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو لوگوں کو یقین تھا کہ مجسٹریٹ سزا ضرور دے دے گا اور بعید نہیں کہ قید کی ہی سزا دے۔اُدھر مخلصین کے دل میں ایک لمحہ کیلئے بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔اُس دن عدالت کی طرف سے بھی زیادہ احتیاط کی گئی تھی۔پہرہ بھی زیادہ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر تشریف لے گئے تو دوستوں نے پروفیسر صاحب کو باہر روک لیا کیونکہ ان کی طبیعت تیز تھی۔مگر انہوں نے ایک بڑا سا پھر ایک درخت کے پیچھے چُھپا رکھا تھا اور جس طرح ایک دیوانہ چیخ مارتا ہے۔زار زار روتے ہوئے دفعتاً درخت کی طرف بھاگے اور وہاں سے پتھر اُٹھا کر بے تحاشہ عدالت کی طرف دوڑے اور اگر جماعت کے لوگ راستہ میں نہ روکتے تو وہ مجسٹریٹ کا سر پھوڑ دیتے۔انہوں نے خیال کرلیا کہ مجسٹریٹ ضرور سزا دے دے گا اور اسی خیال کے اثر کے ماتحت وہ اسے مارنے کیلئے آمادہ ہو گئے۔یہ بھی ایک ابتلاء تھا۔ایک طرف کمزوروں کیلئے اس رنگ میں کہ وہ مرتد ہو رہے تھے اور دوسری طرف مخلصین کیلئے اس رنگ میں کہ اُن کا دامنِ صبر ہاتھوں سے چھوٹ تھا غرضیکہ اُس زمانہ میں بیسیوں ابتلاء تھے جو کبھی چھ ماہ کے بعد آجاتے اور کبھی سال کے بعد۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک اتنا بڑا ابتلاء آیا جس کا اندازہ آج ہم نہیں کرسکتے۔یہ ابتلاء اُس وقت آیا جب حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہ سوال اُٹھایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی کیا تھا۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ایک نہیں دو نہیں بیسیوں راتیں ایسی آئیں جن میں ایسی ادھیڑ بن میں کہ اب کیا ہو گا، شملتے ملتے پاؤں متورم ہو جاتے اور عشاء کے بعد سے لے کر دو دو بج جاتے یہ خیال پریشان کر دیتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے معا بعد اگر بعض لوگوں نے انکار کر دیا تو جماعت کا انجام کیا ہوگا۔اور میں سمجھتا ہوں یہ میری ہی نہیں سینکڑوں کی یہی حالت ہوگی۔اس سے بھی پہلے