خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 59

سال ۱۹۳۴ خطبات محمود غلامی ۵۹ ذات کا محاسبہ آپ کیا جائے تو اس میں بہت سے انسان غلطی کھا جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا ایک لطیفہ مشہور ہے۔انہوں نے ایک بوڑھے آدمی کے متعلق جس پر انہیں بہت اظن تھا سنا کہ وہ گالیاں دیتا اور سخت بد زبانی کرتا ہے۔آپ نے اُسے بلایا۔اور فرمایا مجھے سن کر تعجب ہوا ہے کہ آپ کو سخت کلامی کی عادت ہے، اگر یہ نقص ہو تو اسے دور کرنا چاہیے۔وہ بے ساختہ ایک نہایت ہی گندی گالی دے کر کہنے لگا کون خبیث کہتا ہے کہ میں گالیاں دیتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے۔مجھے معلوم ہو گیا یہ شکایت کرنے والے کی تھی۔آپ کو گالیاں دینے کی عادت نہیں۔تو انسان اپنے متعلق چونکہ بعض دفعہ صحیح اندازہ نہیں کر سکتا، اس لئے اگر کوئی غیر کسی نقص پر اطلاع دے تو بجائے اس سے لڑنے کے انسان کو چاہیے کہ وہ غور کرے اور سوچے کہ آیا مجھ میں یہ نقص پایا جاتا ہے یا نہیں۔اگر وہ ہر بات پر اس طرح غور کرنے کا عادی ہو جائے گا تو اپنی اصلاح میں ایک دن ضرور کامیاب ہو جائے گا۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دشمن کے منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جو واقعہ میں درست ہوتی ہیں اور میں تو عموماً دشمنوں کی باتوں سے ہی اپنے سلسلہ کی ترقی کا اندازہ لگایا کرتا ہوں۔پس بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے خلاف اگر کسی سے کوئی بات سنی جائے تو انسان رنج نہ کرے بلکہ سن لے اور اس پر محور کرے۔اگر غور کرنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ یہ نقص مجھ میں نہیں پایا جاتا تو غور کرنے سے اس کا کیا نقصان ہو جائے گا۔مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ تم جھوٹ بولا کرتے ہو تو غور کیا جائے کہ واقعی میں جھوٹ بولا کرتا ہوں یا نہیں۔اگر جھوٹ بولنے کی عادت نہیں تو اسے خوشی ہوگی کہ مجھ پر غلط اتمام لگایا گیا۔اور اگر یہ بات صحیح ہوگی تو غور کرنے پر اسے اپنی اصلاح کا موقع میسر آجائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ جھوٹ کی بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں گو میں غلطی سے جھوٹ نہیں سمجھتا مگر لوگ انہیں جھوٹ سمجھتے ہیں۔پس کسی کی بات پر بُرا نہ منایا جائے بلکہ اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جائے۔ہاں بعض جگہ بُرا منانا بھی ضروری ہوتا ہے مثلاً طالب علم جب استاد کو کسی نقص کی طرف توجہ دلائے تو اس لحاظ سے کہ ادب اور نظام کا تقاضا ہے کہ شاگرد بے باک نہ ہو، اُستاد کا فرض ہے کہ وہ اسے ڈانٹے لیکن گھر میں آکر اس کی بات پر بھی غور کرے اور سوچے کہ آیا نقص مجھ میں پایا جاتا ہے یا نہیں اور اگر پایا جاتا ہو تو اصلاح کرلے۔گویا دونوں فرائض کو ادا کرے۔ایک فرض کے مطابق وہ طالب علم کو ڈانٹ دے۔اور دوسرے کے مطابق سوچ لے