خطبات محمود (جلد 15) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۴ء مصیبت برداشت کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ لڑائیوں، جنگوں اور دینی کاموں میں انسان کو تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں، فاقے کرنے پڑتے ہیں، جاگنا پڑتا ہے اور یہ سب عادتیں رمضان میں پیدا ہوتی ہیں۔ گرمیوں کے دنوں میں روزہ دار صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہتا ہے، راتوں کو اٹھتا ہے اور انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ جو تکلیف وہ ع وہ عام حالات میں برداشت کر سکتا ہے، اس سے کئی گنا زیادہ غیر معمولی حالات میں برداشت کر سکتا ہے اور جب روزہ میں انسان کو بارہ چودہ گھنٹے بھوکا پیاسا رہنے کی عادت ہو تو دین کیلئے اگر ضرورت پڑے تو اس سے دوگنا تکلیف برداشت کر سکتا بھوک پیاس کی برداشت کی عادت ہوتی ہے اور دین کیلئے تکلیف برداشت ہے۔ پس روزہ سے بھولا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے غرض رمضان قومی ترقی کیلئے ضروری چیز ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ہم نے رمضان اس لئے نازل کیا ہے کہ تا تم دینی و دنیوی دونوں قسم کی ترقیات حاصل کر سکو۔ جو قومیں صرف خور و نوش میں لگ جاتی ہیں اور اس میں روپیہ صرف کرنا شروع کر دیتی ہیں، وہ ہمیشہ تنزل کی طرف جاتی ہیں۔ زیادہ کھانا زیادہ پینا زیادہ سونا اور زیادہ باتیں کرنا، صوفیاء کے نزدیک روحانی ترقی میں روکیں ہیں۔ جو لوگ زیادہ باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ ضرور بیہودہ باتیں بھی کرتے ہیں کیونکہ ہر وقت علمی باتیں ہی نہیں کی جاسکتیں اور ہر وقت علمی باتیں سننے والے بھی نہیں مل سکتے۔ ایسے لوگ عام طور پر غیبت اور چغلی کرتے ہیں۔ زیادہ سونے والے الہام الہی سے متمتع نہیں ہو سکتے۔ الہام سے متمتع ہونے کیلئے ہیں وہ ا سے بحث کرتے تھوڑی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعجب ہے کہ آج کل جو لوگ روحانیت کے ماہر کہلاتے وہ اس کے الٹ کہتے ہیں اور ر یہی یہی ثبوت ہے اس امر امر کا کہ وہ جس الهام ۔ ہیں، وہ خدائی نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ الہام ان لوگوں کو ہوتا ہے جو گہری نیند سوتے ہیں مگر الہی الہام کیلئے نیند میں کمی ضروری ہے ، ذکاوت حس کیلئے خوراک میں کمی ضروری ہے، کم بولنا تقوی میں محمد ہے۔ جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کے احساسات بہت تیز ہوتے ہیں جتنا زیادہ کھایا جائے اتنا ہی زیادہ دماغ میں خمار رہتا ہے اور یہ ساری باتیں رمضان میں حاصل ہوتی ہیں۔ روزہ دار کو غیبت، چغلی اور لڑائی جھگڑے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ اس لئے وہ کم بولتا ہے چونکہ رات کو جاگنا پڑتا ہے اس لئے نیند بھی کم ہو جاتی ہے، کھانا پینا بھی کم ہو جاتا ہے۔ غرضیکہ روحانی ترقی کے جتنے ذرائع ہیں، وہ سب کے سب را رمضان میں جمع ہوتے ہیں۔