خطبات محمود (جلد 15) — Page 506
خطبات محمود 0۔4 سال ۱۹۳۴ء کرتی إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ہم نے اسے رات کو اتارا اور رات تاریکی اور مصیبت پر دلالت ہے اور اس لئے ان دونوں آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ الہام کا نزول تکالیف اور مصائب کے ایام میں ہوا کرتا ہے جب تک کوئی قوم مصائب اور شدائد سے دوچار نہیں ہوتی جب تک ان کے دن راتیں نہیں بن جاتے، جب تک وہ بھوک اور پیاس کی شدت تکلیف نہیں اٹھاتی، جب تک جسم اندر اور باہر سے مصیبت نہیں اٹھاتا اس وقت تک وہ خدا کا کلام نازل نہیں ہو سکتا۔اور اس ماہ کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بتایا ہے کہ اگر اپنے اوپر الہام الہی کا دروازہ کھلا رکھنا چاہو تو ضروری ہے کہ تکالیف اور مصائب سے گزرو اس کے بغیر الہام نہیں مل سکتا۔پس رمضان کلام الہی کو یاد کرانے کا مہینہ ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس میں قرآن کریم کی تلاوت زیادہ کرنی چاہیئے تھے اور اسی لئے ہم یہاں اس مہینہ میں درس کا انتظام کرتے ہیں اور علاوہ درس کے بھی احباب کو چاہیے کہ اس مہینہ میں زیادہ تلاوت کیا کریں اور معانی پر غور کیا کریں تا ان کے اندر قربانی کی و روح پیدا ہو جس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔یاد رکھو کہ پہلے تمہارے دن راتیں بنیں گے پھر خدا تعالی کا کلام نازل ہوگا۔یہ مہینہ بتاتا ہے کہ جو چاہتا ہے کہ دنیا کو فتح کرے اس کیلئے ضروری ہے کہ غار حرا کی علیحدگیوں میں جائے۔دنیا چھوڑے بغیر نہیں مل سکتی۔پہلے اس سے علیحدگی اختیار کرنی ضروری ہوتی ہے اور پھر یہ قبضہ میں آتی ہے وہ قبضہ جسے الہی قبضہ و تصرف ہیں اور جہاں تک اس قبضہ کا تعلق ہے دنیا اس کے پاؤں پر گرتی ہے جو اس سے دور ہے۔ایک دنیوی قبضہ ہوتا ہے جیسا وجال کا ہے اس کے ملنے کا بیشک یہی طریق ہے کہ اپنے آپ کو دنیا کیلئے وقف کر دیا جائے لیکن جو خدا کا ہو کر اس پر قبضہ کرنا چاہے وہ اسی صورت میں کر سکے گا جب اسے چھوڑ دے گا۔ابو جہل نے دنیا کیلئے کسب کر کے اسے حاصل کیا مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا اور پھر یہ آپ کو مل بھی گئی بلکہ ابو جہل سے زیادہ مل گئی ابو جمل زیادہ سے زیادہ ایک رئیس تھا مگر آپ اپنی زندگی میں ہی سارے عرب کے بادشاہ ہو گئے اور آج ساری دنیا کے بادشاہ ہیں۔تو جو دنیا رسول کو ملی وہ ابو جہل کو کہاں حاصل تھی۔مگر ابو جہل کو جو ملا دنیا کمانے سے ملا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو جو ملا وہ بھاگتا دنیا چھوڑنے سے ملا۔پس روحانی جماعتوں کو دنیا دنیا چھوڑ دینے سے ملتی ہے اور دنیاوی لوگوں کو دنیا کمانے