خطبات محمود (جلد 15) — Page 493
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ڈال کر ایک ایک روپیہ یا آٹھ آٹھ آنے جمع کرکے جس جس کے نام پر قرعہ نکلتا جائے، جمع کراتے جائیں۔ پانچویں بات اس کے فوائد کو وسیع کرنے کیلئے میں نے یہ رکھی ہے کہ اس سکیم کو اختیاری رکھا ہے۔ میں نے سب حالات سامنے رکھ دیتے ہیں اور ان کا علاج بھی بتا دیا ہے مگر یہ نہیں رکھا کہ جو حصہ نہ لے اسے سزا دی جائے بلکہ سزا و ثواب کو خدا تعالی پر ہی چھوڑ دیا ہے تا جو حصہ لے اسے زیادہ ثواب ملے۔ تحریکات دو قسم کی ہوتی ہیں، جبری اور اختیاری۔ نماز جبری ہے اور نفل اختیاری اور دونوں ضروری ہیں۔ جبر فائدہ عام کیلئے ہوتا ہے اور اختیار میں ثواب بڑھ جاتا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ نفل کے ذریعہ اپنے رب کے حضور ترقی کرتا ہے 1 - جماعت يُقِيمُونَ الصَّلوةَ ے سے ترقی کرے گی مگر افراد نفل ہے۔ تو یہ فرق ہے جو شریعت نے رکھا ہے۔ اس کی تفاصیل بیان کرنے کا اس وقت موقع نہیں۔ اس سکیم میں میں نے نفلی ترقی مد نظر رکھی ہے ہاں اس کے بعض حصے جبری ہیں جیسے سینما کے متعلق حکم رسول کریم ال بھی دونوں طرح سے کام لیتے تھے۔ جنگ بدر کی بھرتی اختیاری تھی اور تبوک کی جبری اس لئے میں ہدایت کرتا ہوں کو اس تحریک کو چلانے والے مندرجہ ذیل باتوں کو مد نظر رکھیں۔ (۱) یہ کہ وہ صرف میری تجاویز کو لوگوں تک پہنچادیں اس کے بعد مردوں پر اس میں شامل ہونے کیلئے زیادہ زور نہ دیں۔ ہاں عورتوں تک خبر چونکہ مشکل سے پہنچتی ہے۔ اور باہر کی مشکلات سے ان کو آگاہی بھی کم ہوتی ہے، اس لئے رسول کریم ال مردوں میں تو چندہ کیلئے صرف اعلان ہی کر دیتے تھے کہ کون ہے جو اپنا گھر جنت میں بنائے ہے ۔ مگر عورتوں سے اصرار کے ساتھ وصول فرماتے تھے بلکہ فرداً فرداً اجتماع کے مواقع میں انہیں تحریک کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک عورت نے ایک کڑا اتار کر دے دیا تو آپ نے فرمایا دوسرا ہاتھ بھی دوزخ سے بچانے ۔ پس عورتوں کے معاملہ میں اجازت ہے کہ ان میں زیادہ زور کے ساتھ تحریک کی جائے مگر مجبور اُنہیں بھی نہ کیا جائے۔ اور مردوں پر تو زور بالکل نہ دیا جائے صرف ان تک میری تجاویز کو پہنچا دیا جائے اور جو اس میں شامل ہونے سے عذر کرے اسے ترغیب نہ دی جائے۔ کارکن تحریک مجھے دکھا کر اور اسے چھپوا کر کثرت سے شائع کرادیں۔ اور چونکہ ڈاک خانہ میں بعض اوقات چٹھیاں ضائع ہو جاتی ہیں، اس لئے جہاں سے جواب نہ ملے وس