خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 481

خطبات محمود MAL سال ۱۹۳۴ء شروع کر دیا ہے۔اب جو میں لاہور گیا تو گھر کیلئے بعض چیزوں کی ضرورت تھی۔میرے بچوں یا بیویوں نے کہا کہ فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے، مگر جو چیزیں قادیان میں مل سکتی ہیں یا جن کے قائم مقام یہاں مل سکتے ہیں، ان کے متعلق میں نے یہی کہا کہ وہ قادیان سے ہی جا کر خریدیں گے۔اس طرح قادیان کے دُکانداروں کا کچھ نقصان دور ہو جائے گا بلکہ ممکن ہے کہ بالکل ہی دور ہو جائے۔اسی طرح جلسہ سالانہ یا مجلس شوری کے موقع پر جو لوگ آتے ہیں وہ سارے کے سارے بڑے شہروں کے رہنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ کئی ایسے مقامات رہائش رکھنے والے ہوتے ہیں جہاں چیزوں کی قیمتیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی یہاں وہ بھی اگر ایسی چیزیں جو آسانی سے ساتھ لے جاسکیں، یہاں سے خرید لیں یا کپڑے یہاں سے بنوالیا کریں تو یہاں کے دُکانداروں کی بکری زیادہ ہو سکتی ہے۔چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کئی دفعہ اپنے کپڑے یہاں سے بنوایا کرتے تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ رہتے سیالکوٹ میں ہیں اور کپڑے یہاں سے بنواتے ہیں، یہ کیا بات ہے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے دوہرا ثواب مجھے مل جاتا ہے۔اس سے قادیان میں روپیہ کے چلن میں زیادتی بھی ہو جاتی ہے اور بھائی کو فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر چودھری صاحب مرحوم کے نقش قدم پر چلنے والے چند دوست بھی پیدا ہو جائیں تو قادیان کے دُکانداروں کا نقصان ہی دور نہیں ہو سکتا بلکہ انہیں فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔دوسری نصیحت میں قادیان کے دُکانداروں کو یہ کرتا ہوں کہ انہیں سودا ستا خریدنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔میں نے خود کئی دفعہ مقابلہ کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے بعض دکاندار اشیاء مهنگی خریدتے ہیں۔ایک دوست سے میں نے ایک دفعہ ایک چیز کا ریٹ دریافت کرایا تو اس نے بٹالہ یا امرتسر کا ریٹ سولہ روپیہ بتایا اور دوسرے نے کہا کہ نو یا دس روپیہ تک آجائے گی۔اور اس نے اس سے بھی کم میں کہ جتنا بتایا تھا، لا کر بھی وہ چیز دے دی چیز بھی نسبتا اچھی تھی۔اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اگر چیز احتیاط سے خریدی جائے تو اچھی اور سستی مل جاتی ہے۔میں جب ولایت جانے لگا تو میری ایک لڑکی جو اُس وقت چھوٹی تھی رونے لگی۔میں نے اس سے کہا کہ رو نہیں میں تمہارے واسطے اچھی سی گڑیا لاؤں گا۔یہ آتے وقت مجھے یاد آیا اور میں نے اس کیلئے ایک گڑیا کوئی چار روپیہ میں خریدی۔بعض دوستوں نے اسے دیکھا اور کہا کہ بڑی عجیب چیز ہے، کتنے میں آئی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ وعده چال - رفتار