خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 475

خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۴ء والے ہیں، اللہ تعالی ہی سب کچھ جانتا ہے اور وہ اپنے بندوں کو جس قدر مناسب سمجھے بتاتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے انسداد کیلئے کیا کرنا چاہیے۔ پس اس سکیم میں میں نے صرف حال کو ہی نہیں بلکہ استقبال کو بھی مد نظر رکھا ہے اور صرف یہی نہیں سوچا کہ موجودہ حملے سے کس طرح محفوظ رہا جائے بلکہ یہ بھی مد نظر ہے کہ آئندہ نتائج سے بھی جماعت کو بچایا جائے۔ گو یہ بات بھی ہے کہ بعض طبعی نتائج ایسے ہو سکتے ہیں جن کیلئے ہمیں مزید تدابیر اختیار کرنی پڑیں۔ مگر یہ دور کی باتیں ہیں اس لئے ابھی میں ان کو چھوڑتا ہوں۔ کھانے کے متعلق میں نے بعض ہدایات دی تھیں۔ اس بارہ میں بعض سوالات کئے گئے ہیں ان کا اب جواب دیتا ہوں تادوسرے لوگ بھی واقف ہو جائیں۔ ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ عید کے موقع پر کیا ہو گا؟ یہ سوال پہلے ہی میرے ذہن میں تھا اور میں نے پہلے ہی اس پر غور کیا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عیدیں ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔ اے۔ پس اس حدیث کی بناء پر عیدین کیلئے وہی عہد کہ جو ہم نے دوسرے دنوں کیلئے کیا ہے، اسی صورت میں جاری نہیں کیا جاسکتا ہاں اس صورت میں وہ عیدوں کیلئے بھی ہے کہ عیدوں کے موقع پر بھی کھانے پینے میں کفایت کو مد نظر رکھا جائے۔ دوسرے دنوں کیلئے تو یہ ہے کہ صرف ایک ہی سالن استعمال کیا جائے یا جو یا جو میٹھا کھانے کے عادی ہیں، وہ ایک ہی وہ ایک ہی قسم کی کوئی میٹھی چیز بھی تیار کرلیں یا جو لوگ کبھی کبھار کوئی میٹھی چیز تیار کر لیتے ہیں وہ بھی کر سکتے ہیں لیکن روٹی کے ساتھ یا چاول کے ساتھ سالن ایک ہی ہونا چاہیئے مگر عیدوں کیلئے یہ پابندی نہیں کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عیدین کھانے پینے کے دن ہیں مگر یہ نہیں فرمایا کہ یہ اسراف کے دن ہیں اور یہ فرمانے سے کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، یہ مراد نہیں لیا جاسکتا کہ کھانا تو ایک ہی پکایا جائے لیکن کھایا زیادہ جائے کیونکہ زیادہ کھانے سے بد ہضمی کی شکایت ہوگی اور اسلام بیمار کردینے والے حکم نہیں دے سکتا۔ پس اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم عیدوں کے ایام میں ایک سے زیادہ کھانے کھا سکتے ہیں۔ عیدوں کے موقع پر رسول کریم ال خود بھی کئی کھانے استعمال کر لیتے تھے اور پھر کئی دفعہ کھا لیتے تھے۔ پس عیدین کے متعلق میری ہدایت یہی ہے کہ ہمیشہ کی نسبت کھانوں میں کمی کی جائے۔ جو لوگ پانچ چھ کھانے تیار کرتے ہوں وہ چار کریں اور جو چار پانچ کرتے ہیں وہ تین چار کریں اور وہ لوگ بھی جو اپنے گھروں میں اس سے کم پکاتے ہیں، وہ بھی یہ امور مدن نظر رکھیں کہ زیادہ خرچ والے کھانے نہ پکائیں اور اتنا نہ