خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 465

خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۴ء کرلیں تو ننانوے فیصدی کامیابی کی امید ہے کوئی امریکہ چلا جائے کوئی جرمنی چلا جائے کوئی فرانس چلا جائے کوئی انگلستان چلا جائے کوئی اٹلی چلا جائے کوئی افریقہ چلا جائے غرض کہیں نہ کہیں چلا جائے اور جاکر قسمت آزمائی کرے۔ وہ کیوں گھروں میں بیکار پڑے ہیں باہر نکلیں اور کمائیں پھر خود بھی فائدہ اُٹھائیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔ جو زیادہ دور نہ جانا چاہیں وہ ہندوستان میں ہی اپنی جگہ بدل لیں مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیئے بغیر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں یہ بہت بُری بات ہے۔ جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جائیں اور اپنی خیروعافیت کی اطلاع دیتے رہیں۔ مدراس کے بمبئی کے علاقہ میں چلے جائیں ، بمبئی کے بہار میں پنجاب کے بنگال میں، غرض کسی نہ کسی دوسرے ، علاقہ میں چلے جائیں۔ رنگون کلکتہ بمبئی وغیرہ شہروں میں پھیری سے ہی وہ کچھ نہ کچھ کما سکتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو ناکامی ہو تو کیا ناکامی اپنے وطن میں رہنے والوں کو نہیں ہوتی پھر کیا وجہ ہے کہ وہ باہر نکل کر جدوجہد نہ کریں اور سلسلہ کیلئے مفید وجود نہ بنیں اور بیکار گھروں میں پڑے رہیں۔ سولہواں مطالبہ یہ ہے کہ جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔ ذلت کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض کام ذلت کا موجب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہمارا کیا حق ہے کہ اپنے کسی بھائی سے کہیں کہ وہ فلاں کام کرے جسے ہم کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے کام کرنا چاہئیے۔ امراء تو اپنے گھروں میں کوئی چیز ادھر سے اُٹھا کر اُدھر رکھنا بھی عار سمجھتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بیسیوں دفعہ برتن مانجتے اور دھوتے دیکھا ہے اور میں نے خود بیسیوں دفعہ برتن مانجے اور دھوئے ہیں اور کئی دفعہ رومال وغیرہ کی قسم کے کپڑے بھی دھوئے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ایک ملازم کو پاؤں دبانے کیلئے بلایا۔ وہ مجھے دبا رہا تھا کہ کھانے کا وقت ہو گیا۔ لڑکا کھانے کا پوچھنے آیا تو میں نے کہا دو آدمیوں کا کھانا لے آؤ۔ کھانا آنے پر میں نے اُس ملازم کو ساتھ بٹھا لیا۔ لڑکا یہ دیکھ کر دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور جاکر فقہہ مار کر کہنے لگا حضرت صاحب فلاں ملازم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ اسلامی طریق کی ہے اور میں سفر میں یہی طریق رکھتا ہوں کہ ساتھ والے آدمیوں کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا لیتا ہوں۔