خطبات محمود (جلد 15) — Page 457
خطبات محمود لدود سال ۱۹۳۴ء لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ اس جماعت کے سب افراد میں خواہ وہ کسی طبقہ کے ہوں دین سے رغبت اور واقفیت پائی جاتی ہے اور خواہ ان کے منہ سے وہی باتیں نکلیں جو مولوی بیان کرتے ہیں مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہو گا۔ ایسے طبقوں کے لوگ ہماری جماعت میں چار پانچ سو سے کم نہیں ہوں گے مگر اس وقت دو تین کے سوا باقی دینی مضامین کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس وقت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب قاضی محمد اسلم صاحب اور ایک دو اور نوجوان ہیں، ایک دہلی کے عبدالمجید صاحب ہیں جنہوں نے ملازمت کے دوران میں ہی مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا وہ لیکچر بھی اچھا دے سکتے ہیں، سرحد میں قاضی محمد یوسف صاحب ہیں غرض ساری جماعت میں دس بارہ سے زیادہ ایسے لوگ نہیں ہوں گے۔ باقی سمجھتے ہیں انہوں نے فراغت پالی ہے کیونکہ لیکچر دینے کیلئے مولوی تیار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح ایک تو ان کی اپنی زبانوں کو زنگ لگ رہا ہے پھر دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ مجھے یاد ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کو لیکچر دینے کا شوق تھا اور انہوں نے اس رنگ میں خدمت کی ہے۔ کسی نے ان کے متعلق کہا وہ شہرت چاہتے ہیں اس لئے لیکچر دیتے پھرتے ہیں۔ میں نے کہا اگر وہ شہرت کیلئے ایسا کرتے ہیں تو تم خدا کیلئے کیوں اسی طرح نہیں کرتے۔ بہر حال ان کو ڈھن تھی اور وہ لیکچر دینے جایا کرتے تھے۔ میں نے ان کے کئی لیکچر سنے ہیں۔ جب وہ لیکچر دیتے ہوئے اس موقع پر آتے کہ خواہ تم حضرت مرزا صاحب کو بُرا کہو مگر میں عیسائی ہونے لگا تھا مجھے انہوں نے ہی بچایا تو اس طرح لوگوں کے دلوں میں حضرت اقدس کے متعلق انس پیدا ہو جاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قدر بھی کرتے کہ انہوں نے خواجہ صاحب کو عیسائی ہونے سے بچایا۔ میں سمجھتا ہوں اگر اچھی پوزیشن رکھنے والا ہر شخص اپنے حالات بیان کرے اور بتائے کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کر کے کس قدر روحانی ترقی حاصل ہوئی اور کس طرح اس کی حالت میں انقلاب آیا۔ پھر ڈاکٹر یا وکیل یا بیرسٹر ہو کر قرآن اور حدیث کے معارف بیان کرے تو سننے والوں پر اس کا خاص اثر ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہی بیان کی جائے بلکہ ان مسائل کو بیان کرنا بھی ضروری ہے جو قبول احمدیت میں روک بنے ہوئے ہیں۔ مثلاً فسق و فجور میں لوگوں کا مبتلاء ہونا نمازوں سے دوری' مذہب سے بے رغبتی رح وغیرہ ان امور امور کے متعلق اگر کوئی بیرسٹریا وکیل یا حج یا ڈاکٹر لیکچر دے تو کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے مولویوں کے