خطبات محمود (جلد 15) — Page 456
خطبات محمود ۴۵۶ سال ۱۹۳۴ء ہے ویسا ہی ہم اس سے سلوک کرتے ہیں۔ وہ جن کے دلوں میں اپنی ہستی کا یقین نہیں ہوتا یا خداتعالی کے متعلق یقین نہیں ہوتا ان کو کچھ نہیں ملتا۔ لیکن جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں معزز بنایا ہے اور بڑی بڑی طاقتیں عطا کی ہیں اور وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالی بڑا رحم کرنے والا اور بڑے بڑے انعام دینے والا ہے، وہ خالی نہیں رہتے اور اپنے ظرف کے مطابق اپنا حصہ لے کر رہتے ہیں۔ وہی خدا کے بچے بندے ہیں ان کا خدا ان سے خوش ہے اپنے نے خدا خدا سے خوش ہیں۔ ں۔ زمینداروں کیلئے بھی چھٹی کا وقت ہوتا ہے۔ انہیں سرکار کی طرف سے چھٹی نہیں ملتی بلکہ خدا تعالی کی طرف سے ملتی ہے۔ یعنی ایک موقع آتا ہے جو نہ کوئی فصل ہونے کا ہوتا ہے اور نہ کاٹنے کا۔ اس وقت جو تھوڑا بہت کام ہو، اسے بیوی بچوں کے سپرد سپرد کر کے وہ اپنے آپ کو تبلیغ کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ ہم ان کی لیاقت کے مطابق اور ان کی طرز کا ہی کام انہیں بتادیں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے اعلیٰ نتائج رونما ہوں اور وہ گے۔ مثلاً ان سے پوچھیں گے کہ تمہاری کہاں کہاں رشتہ داریاں ہیں اور کہاں کے رشتہ دار احمدی نہیں۔ پھر کہیں گے جاؤ ان کے ۔ کے ہاں مہمان ٹھرو اور ان کو تبلیغ کرو۔ اس پر کچھ خرچ بھی نہ ہوگا کیونکہ رشتہ داریاں قریب قریب ہوتی ہیں۔ یا پھر بہت تھوڑا کرایہ خرچ ہو گا۔ اس طرح وہ ان کے ہاں رہیں اور انہیں تبلیغ کریں۔ اس عرصہ میں اگر ایک بھی بیج بویا گیا تو آگے وہ خود ترقی کرے گا۔ اس طرح سینکڑوں مبلغ باقاعدہ طور پر کام کرنے والے پیدا ہو سکتے ہیں۔ زمینداروں سمیت پانچ چھ سو بلکہ ہزار تک مبلغ ایک وقت میں کام کر سکتے ہیں۔ دسواں مطالبہ یہ ہے کہ اپنے عہدہ یا کسی علم وغیرہ کے لحاظ سے جو لوگ کوئی پوزیشن رکھتے ہوں یعنی ڈاکٹر ہوں، وکلاء ہوں یا اور ایسے معزز کاموں پر یا ملازمتوں پر ہوں جن کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایسے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ مختلف مقامات کے جلسوں میں مبلغوں کے سوائے ان کو بھیجا جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگوں پر یہ اثر ہوتا ہے کہ مولوی آتے ہیں تقریریں کر جاتے ہیں اور یہ ان کا پیشہ ہے۔ وہ لوگ ہمارے مولویوں کی قربانیوں کو نہیں دیکھتے اور انہیں اپنے مولویوں پر قیاس کر لیتے ہیں حالانکہ ان کے مولویوں اور ہمارے مولویوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہمارے مولوی حقیقی عالم ہوتے ہیں اور ان کے مولوی محض جاہل۔ مگر لوگ ظاہری شکل دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ احمدی مولوی بھی عام مولویوں کی طرح ہی ہیں۔ لیکن تقریر کرنے والا کوئی وکیل ، کوئی ڈاکٹر یا کوئی اور عہدہ دار ہو تو