خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۴ء آج بھی اس مضمون کے بیان کرنے کا تو موقع نہیں لیکن زلزلہ کے متعلق جو ۱۵- جنوری کو بہار بنگال اور نیپال میں آیا ہے جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مستقل پیشگوئی تھی۔ جیسا کہ رویا کے الفاظ ہیں کہ :- دیکھا کہ بشیر احمد کھڑا ہے۔ وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔ " زلزلہ شمال مشرق کی طرف چلا گیا۔ اس کا مفہوم یہی ہے کہ پہلے ذہن اسی طرف منتقل تھے کہ زلزلہ والی پیشگوئی کے مطابق یہ زلزلہ بھی شاید اسی علاقہ میں آئے گا جہاں پہلے آیا ہے۔ پہلا زلزلہ شمال مغربی حصہ میں ضلع کانگڑہ کی طرف آیا تھا اور ذہن عام طور پر اسی طرف منتقل تھے کہ اُدھر ہی دوسرا زلزلہ آئے گا اور اس کا اس قدر اثر تھا کہ اس علاقہ میں اگر کوئی چھوٹا سا دھکا بھی زلزلہ کا محسوس ہوا تو سمجھ لیا جاتا کہ وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی ہے۔ جب لمبے عرصہ تک یہ شبہ رہا اور اللہ تعالی نے دیکھا کہ لوگ اس خیال کو متواتر اور اس طرح قائم کرتے جارہے ہیں کہ آئندہ شاید یہ پیشگوئی کا جزو بن جائے تو پھر ایک الہام کے ذریعہ اس غلط فہمی کو رفع کردیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رویا میں دیکھا کہ میاں بشیر احمد صاحب نظر آئے۔ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ زلزلہ شمال مشرق کی طرف چلا گیا۔ اس پیشگوئی کے متعلق بھی اس وقت تفصیلی طور پر بیان نہیں کر سکتا۔ اس کے متعلق میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے کہا ہے کہ لکھیں کیونکہ انہی کے منہ سے یہ الفاظ نکلوائے گئے ہیں اس لئے جب مجھے کہا گیا کہ اس کے متعلق ایک رسالہ لکھوں تو میں نے اس پیشگوئی کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہی کہا کہ میاں بشیر احمد صاحب لکھیں اس لئے اس کی طرف صرف اشارہ کرکے ہی میں اس مضمون کی طرف آنا چاہتا ہوں کہ جو پیشگوئیاں اللہ تعالی پوری کرتا ہے وہ بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک قسم کی پیشگوئیاں براہ راست بعض مخالفین اور معاندین کے متعلق ہوتیں ہیں اور انہیں سے وہ مخصوص ہوتی ہیں وہ جب پوری ہوتی ہیں تو ان کے متعلق کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی کسی قسم کی اعانت و نصرت کرنا گناہ ہے۔ لیکن ایک بطور نشان ہوتی ہیں اور ان کے ماتحت جو عذاب آتا ہے وہ اس قدر پھیل کر آتا ہے کہ بعض نا واقف بھی اس سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ یہ عذاب دنیا کی عام گنگاری کی وجہ سے آتا ہے۔ جو عذاب مخصوص انسانوں پر آتا ہے،