خطبات محمود (جلد 15) — Page 439
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۴ء مخلصین جماعت احمدیہ سے جانی اور مالی قربانیوں کے مزید مطالبات (فرموده ۳۰- نومبر ۱۹۳۴ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں احباب کے سامنے اس تحریک کے جو میرے نزدیک اُس فتنہ کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے جو اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف مختلف جماعتوں کی طرف سے کھڑا کیا گیا ہے، چھ حصے ایسے بیان کئے تھے جن کے ذریعہ سے اس مخالفت کا سد باب کیا جاسکتا ہے اور سلسلہ کی ترقی کے راستہ سے روکوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ میں نے بعض نئے کام تجویز کئے تھے تاکہ ان کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ کیلئے نئے مقامات تلاش کئے جائیں۔ اس کیلئے میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی اپیل کا اعلان کیا تھا۔ اصل مخاطب اس اپیل کے تو وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالٰی سو روپیہ یا سو سے زائد رقم دینے کی توفیق دے لیکن چونکہ خدا تعالی نے غرباء کے دلوں میں قربانی کا زیادہ مادہ رکھا ہوتا ہے بلکہ وہ تو اپنی ذات میں مجسم قربانی نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی ساری عمر ہی قربانی میں گزر جاتی ہے۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ ان کو اس ثواب میں شمولیت سے محروم رکھوں اس لئے چاروں سکیموں کے متعلق جن میں سے ایک پندرہ ہزار کی ہے، دوسری دس ہزار کی اور دو اڑھائی اڑھائی ہزار کی۔ غرباء کیلئے اس رنگ میں رستہ کھولا کہ جو چاہے کسی ایک میں یا ایک سے زیادہ میں یا سب میں شریک ہو سکے۔ یعنی پندرہ اور دس ہزار