خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 428

محمود سال ۱۹۳۴ء جب ضرورت ہو کپڑا لیں گی۔اس عادت کو ترک کریں گی کہ جب پھیری والے کی آواز سنی کپڑا دیکھنے کو منگوا لیا اور نہ یہ کہ گئے تو ایک دوپٹہ کا کپڑا خرید نے لیکن ایک پاجامہ کا کپڑا آگیا اور وہ بھی ساتھ خرید لیا۔عورتوں میں یہ مرض بہت ہے کہ وہ ضرورت پر نہیں بلکہ کپڑا پسند آجانے پر کپڑا خرید لیتی ہیں۔یہ عادت اسراف میں بہت محمد ہے۔مرد جو فیشن کی پابندی کرتے ہیں وہ بھی ایسا نہیں کرتے کہ دُکانوں پر جاکر دیکھتے پھریں اور جو کپڑا پسند آئے وہ خرید لیں مگر عورتیں ایسا کرتی ہیں۔پس جو عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں، وہ اس بات کی پابند ہوں گی کہ صرف پسند آجانے پر کوئی کپڑا نہ خریدیں بلکہ ضرورت ہو تو خریدیں۔دوسری پابندی عورتوں کیلئے یہ ہے کہ اس عرصہ میں گوٹہ ، کناری فیتہ وغیرہ قطعا نہ خریدیں۔یہ باتیں میں کانگرس کے نقطہ نگاہ سے نہیں کہتا اس لئے اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ پہلے جو چیزیں موجود ہیں ، ان کو بھی ضائع کرنے یا جلا دینے کا حکم ہے بلکہ یہ مطالبات اس لئے ہیں کہ ہمیں دین کیلئے قربانی کی ضرورت ہے۔پس پچھلا اگر موجود ہو اسے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر آئندہ سے خریدنا بند کردیں۔تیسری شرط اس مد میں یہ ہے کہ جو عورتیں اس عہد میں اپنے آپ کو شامل کرنا چاہیں ہ کوئی نیا زیور نہیں بنوائیں گی اور جو مرد اس میں شامل ہوں گے وہ بھی عہد کریں کہ عورتوں کو نیا زیور بنوا کر نہیں دیں گے، پرانے زیور کو تڑوا کر بنانے کی بھی ممانعت عورتیں پرانے زیوروں کو تڑوا کر بھی نئے بنانے کی عادی ہوتی ہیں اور اس میں بھی روپیہ ضائع ہوتا ہے۔اور جب ہم جنگ کرنا چاہتے ہیں تو روپیہ کو کیوں خواہ مخواہ ضائع کریں۔خوشی کے دنوں میں ایسی جائز باتوں سے ہم نہیں روکتے لیکن جنگ کے دنوں میں ایک پیسہ کی حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔ہاں ٹوٹے ہوئے زیور کی مرمت جائز ہے اور اسے مرمت کرا کر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن نیا بنانے کی اجازت نہیں۔علاج کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اطباء اور ڈاکٹر سستے نسخے تجویز کیا کریں اس کیلئے مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔پانچواں خرچ سینما اور تماشے ہیں۔ان کے متعلق میں ساری جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ تین سال تک کوئی احمدی کسی سینما، سرکس، تھیٹر وغیرہ غرضیکہ تماشہ میں بالکل نہ جائے۔آج سے تین سال تک کیلئے میری یہ جماعت کو ہدایت ہے اور ہر مخلص احمدی جو میری بیعت کی قدروقیمت کو سمجھتا ہے اس کیلئے سینما یا کوئی اور تماشہ وغیرہ دیکھنا یا کسی کو دکھانا ناجائز ہے۔وہ ہے۔