خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 421

خطبات محمود ۲۱ سال ۶۱۹۳۳ زیادہ ہے۔ اگر بفرض محال سارے ملک میں اپنی تعداد چار لاکھ بھی سمجھ لیں اور دو آنہ فی کس علاج کی اوسط رکھ لیں پھر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ دیہات میں عام طور پر لوگ علاج نہیں کراتے اگر اس تعداد کا دسواں بیسواں حصہ بھی لے لیا جائے تو باقاعدہ علاج کرانے والوں کی تعداد میں ہزار بن جاتی ہے اور جس طرز پر یہ علاج ہوتا ہے اس پر اڑھائی روپیہ سالانہ کی اوسط بھی رکھی جائے تو یہ خرچ پچاس ہزار ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ اوسطاً پچیس روپیہ ماہوار دوائیوں کا خرچ پڑ جاتا ہے۔ جس نئے طبیب سے مشورہ کیا اس نے دس میں روپیہ کا نسخہ لکھ دیا۔ اس طرح مختلف نسخہ جات پر قریباً پچیس روپیہ ماہوار خرچ ہو جاتا ہے۔ علاوہ ان دوائیوں کے جو ہسپتال سے آتی ہیں اور علاوہ ان کے جو میں نے خود منگوا کر اپنے گھر میں گھر کے استعمال کیلئے یا غرباء کے استعمال کیلئے رکھی ہوتی ہیں۔ تو تماشوں کے خرچ کی طرح علاج کا خرچ بھی اتنا بار گراں ہے کہ یہ بھی ایک تماشا بنا ہوا ہے۔ لیکن اگر ڈاکٹر یہ عہد کرلیں کہ وہ اپنے دماغ پر زور دے کر ایسے نسخے لکھیں گے جو ستے داموں تیار ہو۔ وسکیں اور قیمتی پیٹنٹ ادویہ استعمال کرا کے نئی نئی دوائیوں کے تجربوں پر ملک کا روپیہ ضائع نہیں کرائیں گے تو یہ بار بہت حد تک ہلکا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سات مدات اور ہیں جن میں سے اول غذا ہے۔ غذا میں کثرت اور تنوع اس قدر پایا جاتا ہے کہ اس پر بہت خرچ ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں میں تو کھانے کا اس قدر مرض ہے کہ جہاں بھی چند مسلمان جمع ہوں وہاں کھانے پینے کا ضرور ذکر ہوگا۔ کوئی کہے گا یار فلاں چیز کھلاؤ۔ کوئی کہے گا یار! میں تمہارے ہاں گیا تھا تم نے فلاں چیز نہیں کھلائی۔ ایک غریب دوست نے ایک دفعہ ایک اور بھائی کی دعوت کی اور مجھے بھی اس دعوت میں بلایا۔ اس دعوت میں پلاؤ نہ تھا جو صاحب مدعو تھے انہوں نے ہنس کر کہا کہ میری تو سمجھ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ پلاؤ کے بغیر بھی کوئی دعوت ہو سکتی ہے۔ آسودہ حال لوگوں میں تو تنوع بہت ہی زیادہ پایا جاتا ہے اور میرے زیادہ تر مخاطب آسودہ حال لوگ ہی ہیں غرباء کو تو روکھی سوکھی روٹی بمشکل ملتی ہے۔ کھانے کے متعلق دیہاتیوں کی ذہنیت کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ کسی شخص نے کہا کہ ملکہ معظمہ کیا کھاتی ہوں گی۔ تو دوسرے نے کہا کہ ان کا کیا کہنا ہے۔ گڑ کی بھیلی اُٹھائی اور کھالی۔ پس میں یہ باتیں ان لوگوں کیلئے کہہ رہا ہوں اور ان سے ہی قربانی کا مطالبہ کرتا ہوں جو آسودہ حال ہیں اور ایک سے