خطبات محمود (جلد 15) — Page 420
خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۳۴ء۔حصہ تجربہ کیلئے کسی مریض کو وہ لکھ دیں گے حالانکہ اس کی قیمت دس بارہ روپے ہوگی۔مجھے خوب یاد ہے آج سے پچیس سال پہلے ڈاکٹری نسخہ کی قیمت دو تین آنہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی اور آج کل جو قیمتی ادویات ڈاکٹر لکھ دیتے ہیں ان کے بغیر ہی مریض صحت یاب ہو جاتے تھے۔میں نے خود حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے سنا ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا علاج پیسہ دھیلا یا دمڑی سے نہ ہو سکتا ہو۔آپ ایک بزرگ صوفی کا ذکر کرتے تھے جنہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے کہ انسانی بیماریوں کا علاج انسان کے جسم کے اندر ہی موجود ہے۔بعض بیماریوں کا علاج بال ہیں اور بعض کا علاج کان کی میل ہی ہے۔آنکھ کی بعض بیماریوں میں کان کی میل بہت فائدہ دیتی ہے۔لیکن آج کل ڈاکٹر مریضوں کا بہت سا روپیہ علاج پر خرچ کراتے ہیں اور ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار ضرور ہوتا ہے۔بعض گھروں میں کئی کئی مریض ہوتے ہیں ڈاکٹر نسخے پر نسخے لکھتے ہیں اور ان پر اس قدر روپیہ خرچ آتا ہے کہ بعض لوگوں نے مجھے بتلایا ہے کہ ان کی آمد کا چوتھائی علاج پر صرف ہو جاتا ہے۔بعض غریب لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہم بیماری کی وجہ سے اتنے سو روپیہ کے مقروض ہو گئے ہیں حالانکہ دس پیسہ میں اس بیماری کا علاج ہو سکتا تھا۔پس ڈاکٹر اس بات کا عہد کرلیں کہ وہ اپنا سارا زور لگائیں گے کہ روپوں کا کام پیسوں میں ہو اور جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ بغیر قیمتی دوا کے جان کے نقصان کا احتمال ہے اس وقت تک قیمتی ادویات پر خرچ نہ کروائیں گے۔مثلاً بعض ٹیکے ایسے ہیں جو بعض بیماریوں میں بہت مفید ہوتے ہیں اور ان کے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔میں ان کی ممانعت نہیں کرتا اور وہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔میرا مطلب ایسی دوائیوں۔ہے جو آئے دن پیٹنٹ ہو رہی ہیں بڑی قیمتیں ان کی ہیں حالانکہ وہ چیزیں سستے داموں اپنے ہاں تیار کی جاسکتی ہیں یا پھر ان کی ضرورت ہی نہیں ہے اس طرح سے ملک کا اور ہماری جماعت کا روپیہ بے فائدہ باہر جاتا ہے اور قوم میں قربانی کی روح کم ہوتی ہے۔یورپ میں یہ روبیہ عیاشیوں میں صرف ہوتا ہے اگر ہماری جماعت کے ڈاکٹر یہ عہد کرلیں کہ علاج میں ایسے غیر ضروری مصارف نہیں ہونے دیں گے اور جماعت کے لوگ یہ کوشش کریں کہ اپنے طبیوں سے ہی علاج کرائیں گے تو پچاس ہزار روپیہ سالانہ کی بچت ہو سکتی ہے۔پنجاب میں سرکاری رپورٹ کے مطابق ہماری تعداد ۵۶ ہزار ہے مگر ہم اسے صحیح نہیں سمجھتے۔اُس وقت بھی جبکہ یہ مردم شماری ہوئی ہم اپنی تعداد ڈیڑھ دو لاکھ سمجھتے تھے اور اب تو اس سے بہت ہے