خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 412

خطبات محمود اور سال ۶۱۹۳۴ وہ ان کے کھانے پینے میں ایسی احتیاط نہیں کرتیں کہ وہ آرام طلب اور عیاش نہ ہو جائیں قربانی کیا کر سکتے ہیں۔عادتیں جو بچپن میں پیدا ہو جائیں وہ نہیں چھوٹتیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ بہت بڑے ایمان سے دب جاتی ہیں مگر جب ایمان میں ذرا بھی کمی آئے پھر عود کر آتی ہیں۔پس جانی قربانی بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ متحد نہ ہوں۔جب تک مائیں متحد نہیں ہوں گی تو وہ روز ایسے کام کریں گی جن سے بچوں میں سستی غفلت پیدا ہو۔پس جب تک مناسب ماحول پیدا نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ہماری مالی قربانی سوائے کمزوروں کے موجودہ ماحول کے لحاظ سے انتہائی حد تک پہنچی ہوئی ہے اور جب تک ماحول تبدیل نہ ہو اور بیوی بچوں کو ساتھ شامل نہ کیا جائے اس وقت تک مزید قربانیوں کا دعوئی پورا نہیں ہو سکتا۔موجود حالات کے لحاظ سے اگر کوئی زیادہ سے زیادہ قربانی کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مقروض ہو جائے گا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس کا اثر اس کی جائداد پر پڑے گا اور اس طرح جتنی قربانی وہ پہلے کرتا تھا وہ بھی کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ایسی قربانی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی ایک ہاتھ والا انسان ایک طرف سے ہاتھ کاٹ کر دوسری طرف لگانا چاہے۔دوسری طرف ہاتھ تو کیا لگے گا دوسرا ہاتھ بھی وہ کھو بیٹھے گا۔پس اگر ماحول کے بغیر قربانی کی جائے تو قربانی کرنے والا یقیناً مقروض ہو جائے گا اور اس کی جائداد پر اثر پڑ کر اور کم ہو جائے گی اور اس طرح یہ قربانی سلسلہ کیلئے مفید ہونے کی بجائے مضر ہوگی۔مزید قربانیوں کیلئے ماحول پیدا کرنے کے واسطے ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا روپیہ خرچ کہاں ہوتا ہے۔جو پیسہ ہم خرچ کرتے ہیں، اس میں سے ایک حصہ جائداد کی حفاظت کیلئے بھی صرف ہوتا ہے، تجارت اور زمینداری کی مضبوطی کیلئے بھی ہوتا ہے، صدقات اور چندوں پر بھی خرچ ہوتا ہے اور یہ سب خرچ مال کو کم کرنے کا نہیں بلکہ بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔پس ان اخراجات کو چھوڑ کر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا باقی آمد کن کن مدات میں خرچ کرتی ہے تو اس کی موٹی موٹی آٹھ مرات معلوم ہوتی ہیں۔اول غذاء ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے ہر شخص کھانا کھانے پر مجبور ہے اللہ تعالٰی نے انسان کو پیدا ہی ایسا کیا ہے اور کھانے پینے کا حکم دیا ہے۔جو شخص نہ کھائے گا وہ سلسلہ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا بلکہ مرجائے گا اس لئے یہ خرچ بہرحال قائم رہنا ہے۔دوسرے لباس کا خرچ ہے۔اس کے متعلق بھی خدا تعالی کا حکم ہے کہ لباس پہنو اور