خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 411

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء اپنے آپ کو پیش کرنے والے کس حد تک قربانی کر سکتے ہیں یا کس حد تک اپنے حالات میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔غرض جو شخص بغیر حالات کے تغیر کے کہتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔اگر تو وہ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ میرے پاس تو دینے کو کچھ بھی نہیں، ایسا دعویٰ کرتا ہے تو وہ منافق بیوقوف ہے۔لیکن اگر وہ بغیر غور کئے اخلاص کے جوش میں یہ دعویٰ کرتا ہے تو وہ مخلص بیوقوف ہے۔اگر عظمند ہوتا تو اسے سوچنا چاہیئے تھا کہ اس کے مال کا کونسا حصہ ہے جس کی وہ قربانی پیش کرتا ہے۔جب تک وہ اپنے خرچ کو سو سے کم کر کے پچانوے نوے یا ساٹھ ستر پر نہیں لے آتا وہ قربانی کر ہی کیا سکتا ہے۔قربانی تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ایسا شخص اپنے اخراجات کو کم کرے اور پھر کہے کہ میں نے اپنے اخراجات میں یہ تغیرات کئے ہیں اور ان سے یہ بچت ہوتی ہے جو آپ لے لیں۔پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کیلئے ماحول پیدا کیا جائے اس کے بغیر قربانی کا دعویٰ کرنا ایک نادانی کا دعوی ہے یا منافقت۔یاد رکھو کہ یہ ماحول اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ نہ ہوں۔مرد اپنی جانوں پر عام طور پر پانچ دس فیصدی خرچ کرتے ہیں سوائے ان عیاش مردوں کے جو عیاشی کرنے کیلئے زیادہ خرچ کرتے ہیں ورنہ کنبہ دار مرد عام طور پر اپنی ذات پر پانچ دس فیصدی سے زیادہ خرچ نہیں کرتے اور باقی نوے پچانوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے اس لئے بھی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ ان کے آرام ا کا مرد زیادہ خیال رکھتے ہیں۔پس ان حالات میں مرد جو پہلے ہی پانچ یا دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس فیصدی اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں اور جن کی آمدنی کا اسی نوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے اگر قربانی کرنا بھی چاہیں تو کیا کرسکتے ہیں جب تک عورتیں اور بچے ساتھ نہ دیں اور جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ ہم ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ مرد قربانی کردیتے پس تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قربانی کیلئے پہلے ماحول پیدا کیا جائے اور ہمیں اپنے بیوی بچوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے یا نہیں۔اگر وہ ہمارے ساتھ قربانی کیلئے تیار نہیں ہیں تو قربانی کی گنجائش بہت کم ہے۔مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کا بھی یہی حال ہے۔جسم کو تکلیف پہنچانا کس طرح ہو سکتا ہے جب تک اس کیلئے عادت نہ ڈالی جائے۔جو مائیں اپنے بچوں کو وقت پر نہیں جگاتیں، وقت پر پڑھنے کیلئے نہیں بھیجتیں، کرتے اس