خطبات محمود (جلد 15) — Page 382
خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۴ء کیونکہ ان دنوں اس علاقہ میں شورش تھی اور قیاس ہو سکتا تھا کہ گورنمنٹ نے ڈاک پر سنسر بٹھایا ہوا ہو۔ بہرحال جب مجھے معلوم ہوا کہ خط کھولا گیا تو میں نے شکایت کی کہ اگر اس علاقہ میں سنسر تھا تو اس افسر کو پہلے بتا دینا چاہیے تھا تاکہ اس خط کا مضمون نا اہل لوگوں کی نظروں سے نہ گزرتا۔ اس صورت میں ہم آدمی کے ہاتھ خط بھجوا دیتے۔ اس کا جواب اس افسر نے یہ دیا کہ واقعہ سے ظاہر ہے کہ خط کھول کر پڑھا گیا ہے لیکن اس علاقہ میں سنسر نہیں ڈاک خانہ میں جو کانگرس سے ہمدردی رکھنے والے لوگ ہیں، وہ بھی خط پڑھ لیتے ہیں ایسے لوگوں نے کھولا ہو گا۔ پس اب تو گورنمنٹ کے خطوط بھی محفوظ نہیں رہے اور اگر کوئی اہم راز کی بات لکھنی ہو تو گورنمنٹ کو اپنے آدمیوں کے ذریعہ وہ خبر بھجوانی پڑتی یا اور قابل اعتماد ذرائع کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ غرض گورنمنٹ کی اب یہ حالت ہے کہ اس کے اپنے خطوط بھی محفوظ نہیں اور اس کی کوئی بات ایسی نہیں جو دوسروں کے پاس پہنچ نہ جاتی ہو۔ ایک دفعہ گورنمنٹ کے ایک سیکرٹری شملہ میں چائے پر میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ کی ہر بات کانگرس کے پاس پہنچتی رہتی ہے آپ کو بھی کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ ان کی باتیں آپ کو پہنچتی رہیں۔ انہوں نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ہے کہ ہم نے کانگرس میں اپنے آدمی نہیں رکھے ہوئے۔ ہماری باتیں انہیں پہنچتی رہتی ہیں اور ان کی باتیں ہمیں معلوم ہوتی رہتی ہیں۔ یہ حالت اسی لئے ہوئی ہے کہ گورنمنٹ خیال نہیں رکھتی کہ وفادار جماعتوں کو اعلیٰ عہدوں پر پہنچائے۔ اگر اعلیٰ عہدوں پر اس کی وفادار جماعت کے ارکان ہوں تو اس کے راز مخفی رہیں اور کبھی بھی وہ حالت نہ ہو جو آج کل ہے۔ )LIEUTENANT GOVERNOR( سابق لیفٹیننٹ گورنر )SIR) ODWYER( سراو وائر جو مسلمانوں کے نہایت خیر خواہ اور ہندوستانیوں کے ہمدرد افسر تھے وہ کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کی گورنمنٹ ایسے اصول پر قائم ہے کہ نہ دشمن کو اس سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ دوست کو کسی امداد کی امید اور جب تک یہ حالت پیدا نہ ہوگی کہ گورنمنٹ واضح کردے کہ اس کا دوست فائدہ میں رہتا اور اس کا دشمن نقصان اٹھاتا ہے، اس وقت تک صحیح معنوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پس مسٹر ہارڈنگ نے جو کچھ کہا اس سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ درست نہیں اس لئے کہ کسی ایک شخص کا فعل ساری قوم کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ کیا انگریز قوم ساری ہی ایسی ہے کہ وہ وفاداروں کی قدر نہیں کرتی۔ کبھی نہیں، ہم تو