خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 381

خطبات محمود PAI سال ۱۹۳۴ء معنی یہ ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی وفاداری کے بدلے اسے عہدے نہیں دے سکتے۔یہ ایسی غلطی ہے جو کئی انگریزوں کو لگی ہے۔وہ ایسے وقت جبکہ انہیں کسی وفادار جماعت کی ضرورت ہو، جماعت احمدیہ کو مدد کیلئے بلاتے ہیں مگر جب عہدے دینے کا سوال ہو تو کانگرسیوں کو دے دیتے ہیں۔مگر اس کا خمیازہ بھی گورنمنٹ بھگت رہی ہے اور اب حالت یہ ہے کہ حکومت کے اپنے راز بھی محفوظ نہیں۔ایک دفعہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک افسر کو مجھ سے کسی مدد کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے مجھ سے خواہش کی کہ میں ان کیلئے کوشش کروں۔اس غرض کیلئے میں نے ایک خط لکھوایا مگر جس دوست کو وہ خط بھجوایا گیا تھا انہوں نے لکھا کہ مجھے خط ایسی حالت میں ملا ہے کہ مجھے شبہ ہے وہ رستہ میں کھولا گیا ہے اور اس کا مضمون ڈاک خانہ میں پڑھ لیا گیا ہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ خط یہاں سے ٹکٹ لگا کر بھیجا گیا تھا مگر وہاں جب پہنچا تو اس پر کوئی ٹکٹ نہ تھا۔لطیفہ یہ ہوا کہ چٹھی رساں جب خط لے کر گیا تو وہ کہنے لگا کہ تھا تو بیرنگ مگر میں ڈاک خانہ سے اسے چوری لے آیا ہوں تاکہ آپ کو پیسے نہ دینے پڑیں مگر اس کا صاف یہ مطلب تھا کہ خط کھولا گیا اور اس کا مضمون پڑھ لیا گیا مگر چونکہ خط کھولتے وقت ٹکٹ پھٹ گیا اس لئے اسے بغیر ٹکٹ ظاہر کیا گیا۔مگر بلا ٹکٹ خط پہلے پوسٹ مین کے ہاتھ میں نہیں آسکتا بلکہ کلرک کے ہاتھ میں آنا چاہیے تھا اور اس صورت میں وہ فوراً بیرنگ کر دیا جاتا لیکن ایسا نہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ پوسٹ مین کو یہ سکھا کر روانہ کیا گیا کہ تم کہہ دینا کہ یہ خط تھا تو بیرنگ مگر میں اسے چوری لے آیا ہوں تاکہ آپ کو پیسے نہ دینے پڑیں۔اس سے پہلے کبھی یہ خیر خواہی ڈاک خیر خواہی ڈاک خانہ والوں کے ذہن میں نہ آئی تھی۔پس بات صاف تھی کہ وہ خط کھولا گیا اور اس کے مضمون کو پڑھ لیا گیا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ خط کس نے پڑھا؟ سو اس کے متعلق دو ہی صورتیں تھیں۔ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ کانگرس کی تائید میں خط کھولے جاتے ہیں۔چنانچہ کئی دفعہ سے جب ولایتی مال آتا تو کانگرسیوں کو اطلاع مل جاتی اور امرتسر وغیرہ سٹیشنوں پر گاڑی پہنچنے پہلے ہی کانگرسی پہنچ جاتے اور شور مچانا شروع کر دیتے۔پس ہمیں معلوم تھا کہ ڈاک خانہ کے عملہ میں سے بہت سے لوگ کانگرسیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ خطوط کھول کر پڑھ لیتے ہیں تاکہ اگر کوئی اہم بات ہو تو کانگرس کو اس سے آگاہ رکھا جائے۔خصوصاً گورنمنٹ کے خطوط کو تو وہ ضرور پڑھتے تھے۔پھر یہ بھی ہو سکتا تھا کہ گورنمنٹ نے خود اس خط کو کھولا ہو