خطبات محمود (جلد 15) — Page 373
خطبات محمود ۳۷۳ سال ۱۹۳۴ء ہوں اور بھوکے پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو نوجوان ان کاموں کے لئے تیار ہوں، وہ اپنے نام پیش کریں۔نوجوانوں کی لیاقت کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یا تو وہ مولوی ہوں، مدرسہ احمدیہ کے سند یافتہ یا کم سے کم انٹرنس پاس یا گریجوایٹ ہوں۔میں جانتا ہوں کہ بہت سے ایسے نوجوان ہماری جماعت میں سکتے موجود ہیں جو اپنے ماں باپ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور گھر بیٹھے روٹیاں توڑتے رہتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ اس طرح اپنے نفسوں کو ہلاک نہ کریں آج اسلام کو ان کی خدمت کی ضرورت ہے، آج احمدیت کو ان نونہال فرزندوں کی ضروت ہے، وہ آگے آئیں اور اپنے نام پیش کریں۔اس اعلان کے جواب سے بھی مجھے اندازہ ہو جائے گا کہ جماعت میں کتنے ایسے افراد ہیں جو عملی رنگ میں قربانی کرنے پر تیار ہیں۔میں نوجوانوں کے باپوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنی اولادوں کو خدمت دین کے لئے پیش کریں ، ان کی ماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کریں مگر ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے جو فارغ ہوں اور شرط یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازم نہ ہوں اور نہ ہی تاجر ہوں اور نہ طالب علم ہوں صرف ایسے نوجوان ہوں جو ملازمت کی انتظار میں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے ایسے لوگوں کی بھی ضرورت نہیں جو سلسلہ کے کاموں پر لگے ہوئے ہیں، نہ وہ نوجوان درکار ہیں جو دکانیں کر رہے ہیں یا زراعت پیشہ ہیں۔میں صرف ان نوجوانوں کو آواز دیتا ہوں جن کو ابھی تک نوکریاں نہیں ملیں اور جن کے کام کے لئے نکل کھڑے ہونے سے ان کی زراعت یا تجارت وغیرہ کو صدمہ نہیں پہنچے گا۔پس میں بیکار نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں، ان کے باپوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو تیار کریں، ان کی ماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے بیٹوں کو خدمت سلسلہ کیلئے آمادہ کریں اور یاد رکھیں کہ وہ ماں باپ جو خداتعالی کی راہ میں اپنے کسی بچہ کو پیش کرتے ہیں، وہ ہر اس ثواب کے حصہ دار ہو جاتے ہیں جو اس بچے کو ملتا ہے اور سلسلہ کی ترقی کے لئے ان کا بچہ جو کام بھی کرے گا اس کا ثواب اس کے ماں باپ کو بھی ملے گا۔اس سلسلہ میں یہ بھی شرط ہے کہ ان نوجوانوں کو کم از کم تین سال کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا ہو گا، گو ممکن ہے بعض دفعہ کسی سے زیادہ عرصہ کے لئے بھی کام لیا جائے۔ہماری جماعت میں اس وقت سینکڑوں بیکار نوجوان موجود ہیں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے لوگ خدمت سلسلہ کے لئے کیوں سامنے